منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

میاں جاوید کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی ،موت کے باوجود ہتھکڑیاں کیوں نہیں اتاری گئیں؟نیب کا کیا کردارتھا؟وجہ سامنے آگئی، افسوسناک انکشاف

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) سرگودھا یونیورسٹی کے ڈائریکٹر میاں جاوید کی لاش پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی،پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق میاں جاوید کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی انکے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں، میاں جاوید کے انتقال کے وقت ہتھکڑیاں لگیں تصاویر وائرل ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں جبکہ نیب لاہورنے وضاحت کی ہے کہ جیل حکام کے زیر تحویل ملزمان کے معاملات جیل انتظامیہ کے سپرد ہوتے ہیں،

نیب کا کسی قسم کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کے غیر قانونی کیمپسز کھولنے کے الزام میں گرفتار میاں جاوید جمعہ کے روز کیمپ جیل میں انتقال کر گئے تھے ۔جن کا پوسٹمارٹم میاں منشی ہسپتال میں ہوا ۔پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق میاں جاوید کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث ہوئی انکے جسم پر تشدد کے کوئی نشان موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق میاں جاوید کی موت ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہو چکی تھی ۔ پوسٹمارٹم کے بعد میاں جاوید کی لاش کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر نے میاں جاوید کی وفات کے وقت ہتھکڑیاں لگیں تصاویر وائرل ہونے کی تحقیقات کرتے ہوئے ابتدائی بیانات قلمبند کر لیے ہیں ۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جاوید احمد کو بغیر ہتھکری کے جیل سے ہسپتال لایا گیا تھا ۔ہیڈکانسٹیبل محمد اعظم ،کانسٹیبل عمران اور خلیل نے ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر ہتھکڑیاں لگائیں۔اہلکاروں کا موقف ہے کہ ایس او پی کے مطابق مجسٹریٹ کے آرڈر تک ہتھکڑیاں نہیں اتار سکتے۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب ) کی جانب سے میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ میاں جاوید کے انتقال میں نیب کا کوئی کردار نہیں ۔جیل حکام کے زیر تحویل تمام ملزمان کے مکمل معاملات جیل انتظامیہ کے سپرد ہوتے ہیں اس میں نیب کا کسی قسم کا عمل دخل نہیں ہوتا کیونکہ عدالت کی جانب سے جوڈیشل کسٹڈی سے مراد ملزمان کو جوڈیشل حکام کے حوالے کرنا ہے۔

ترجمان نیب کے مطاق جوڈیشل کسٹڈی کے بعد محکمہ جیل خانہ جات ہی ملزمان کے معاملات اور ایمرجنسی سے متعلقہ حالات میں احکامات جاری کرتا ہے،جیل مینول کی رو سے کسی نیب آفیسر کی مداخلت یا اجازت کا تصور ہی نہیں۔ترجمان کے مطابق نیب ایک قومی ادارہ ہے جو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے انتہائی سنجیدگی سے اپنی قومی ذمے داری سرانجام دے رہا ہے جس کی کارکردگی کا اعتراف معتبر قومی اور بین الاامی اداروں نے اپنی رپورٹس میں بھی کیا ہے ۔

نیب کی طرف سے وضاحت کے باوجود بے بنیاد پراپیگنڈا دراصل نیب کی ساکھ اور وقار کو نقصان پہنچانے کی ایک مزموم کوشش ہے جس پر نیب نے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا ہر قدم آئین اور قانون کے مطابق ہو گا اور کسی بھی شخص کی عزت نفس کی تذلیل نہ کرنے پر نیب سختی سے عمل پیرا ہے۔نیب کی جانب سے یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ مرحوم میاں جاوید پروفیسر یا ڈاکٹر نہیں تھے بلکہ لاہور کیمپس کے مالک (بزنسمین)تھے اور بطور ڈائریکٹر کیمپس کھولا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…