اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

2018کرپشن اور قومی خزانے سے لوٹ مار کرنے والوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت، بڑے بڑے نیب کے شکنجے میں پھنس گئے ،ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن

datetime 21  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) ملک سے کرپشن کے خلاف اور قومی خزانے سے اربوں روپے کی لوٹ مار کرنے والوں کیلئے سال 2018انتہائی خطرناک ثابت ہوا اوربڑے بڑے نیب کے شکنجے میں جکڑے گئے ، سابق وزیراعظم نوازشریف ، یوسف رضا گیلانی ،ر اجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی سمیت ملک کی کئی اہم شخصیات کے خلاف نیب نے کارروائی کی ،اربوں روپے کی کرپشن کے 105مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا،

نیب نے سال 2018کے دوران ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن کیا ،سیاستدانوں ، بیوروکریٹس سمیت عوام سے دھوکہ دہی کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔اپوزیشن سمیت حکومتی جماعت بھی نیب پر تنقید کرتی نظر آئی ، وزیراعظم عمران خان نے بھی نیب کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا لیکن چیئرمین نیب اپنے ادارے کے دفاع کیلئے سامنے آئے ۔نیب دستاویزکے مطابق رواں سال کے دوران نیب نے 179میگا کرپشن کیسز کو نمٹانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے لیکن نیب ان میں سے 105مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ان کے ریفرنسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں دائر کرنے میں کامیاب ہوا، میگا کرپشن کے 15 مقدمات کی انکوائریاں جاری ہیں جبکہ 19مقدمات تحقیقات کے مراحل میں ہیں اور ان میں سے 40مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں ،رواں سال کے دوران ہی نیب دیگر مقدمات میں 503ملزمان کو گرفتار کیا اور440افراد کے خلاف کرپشن ریفرنس ملک کے مختلف احتساب عدالتوں میں دائر کئے ۔اس وقت ملک کی مختلف عدالتوں میں نیب کے 1206ریفرنسز زیر سماعت ہیں جن میں ملزمان پر 900ارب روپے لوٹنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ اسی سال کے دوران نیب کو 1713کرپشن شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے 877انکوائریاں شروع کی گئیں اور ان انکوائریوں کی روشنی میں 227تحقیقات کی منظوری دی گئی ۔ نیب کی کارکردگی کو نہ صرف عالمی اقتصادی فورم نے سراہا بلکہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور کئی غیر ملکی تنظیموں نے بھی پاکستان میں انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو حوصلہ افزا قراردیا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…