اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ہمارا دامن صاف ہے ،ہمارے خلاف کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟سعد رفیق کا انتہائی شدیدردعمل سامنے آگیا،سنگین الزامات عائد

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوزڈیسک)ہمارا دامن صاف ہے ،ہمارے خلاف کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟سعد رفیق کا انتہائی شدیدردعمل سامنے آگیا،سنگین الزامات عائد،قومی احتساب بیورو (نیب )نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے حراست میں لے لیا جبکہ خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آج ہمارے صبر کا امتحان ہے ،گرفتاری کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرنی،

صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں، فیصلے کروانے والے عوام کی آواز کو سن لیں،ہمارا دامن صاف ہے۔ہاؤسنگ سکیم کا مالک ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،نیب نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں، عدالتوں کا احترام کرتے رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں رکنی بینچ نے سابق وزیر ریلوے سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطابق خواجہ برادران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، خواجہ برادران کا پیراگون سے بالکل تعلق ہے،خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ نے قیصر امین بٹ سے ملکر پیراگون ہاؤسنگ سٹی میں پارٹنر شپ کی، پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سے خواجہ برادران کو بھی پیسے آتے رہے، خواجہ برادران نے مانا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لیے۔نیب کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ سعد رفیق کے بہنوئی بھی اس معاملے میں پارٹنر ہیں، اگر کوئی رقم چوری اور ڈکیتی سے حاصل کی جائے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم درست ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد بٹ نے نیب کو بیان دیا کہ خواجہ سعد رفیق ہر اجلاس میں آتے تھے اور

الاٹمنٹ لیٹر لوگوں کو جاری کرتے تھے، خواجہ برداران کے خلاف تب انکوائری شروع ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔نیب کے وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب جج رہ چکے ہیں ان کی کسی کے ساتھ نہ دشمنی ہے نہ دوستی، وہ قانون کے مطابق کام کرتے ہیں اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی ضمانت خارج ہونی چاہیے۔ خواجہ برادران کے وکیل اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ امجد پرویز نے دلائل دیئے اور کہا کہ نیب کی جانب سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

پیراگون ہاؤسنگ کیس کے ایک ملزم کو گرفتار کرکے 164کا بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے جبکہ بیان کی کاپی بھی نہیں دی جا رہی۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شواہد کی نقل تو آپ کو نہیں دی جاسکتی۔سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ برادران کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو نیب نے کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔

احاطہ عدالت میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کمرہ عدالت سے باہر آئے تو کارکنوں نے شدید نعرے بازی شروع کر دی تاہم خواجہ سعد رفیق نے کارکنوں کو روکتے ہوئے کہا کہ کارکن صبر کا پیمانہ ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ہمارا دامن صاف ہے، فیصلے کروانے والے عوام کی آواز کو سن لیں کیونکہ عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ عوام کی آزادی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں،آج ہمارے صبر کا امتحان ہے ،کوئی کنکر ،

کوئی پتھر کسی کو نہ لگے،گرفتاری کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرنی۔انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ سکیم کا مالک ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،نیب نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں،چیئرمین نیب اور عدالت نے ہماری بات نہیں سنی،اللہ ان کا بھلا کرے۔عدالتوں کا احترام کرتے رہیں گے۔نیب ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) لاہو حکام کی جانب سے خواجہ برادران کی پیراگون سٹی کرپشن کیس میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کے الزام

میں معزز لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کے خارج ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جس سے نیب کے ملزمان کیخلاف معقول شواہد پیش کرنیکی تصدیق ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق خواجہ برادران کو نیب آفس منتقل کر دیا گیا جہاں ان سے پیراگون کا ہاؤسنگ سوسائیٹی کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔خیال رہے کہ خواجہ برداران نے پیراگون ہاسنگ اسکینڈل میں قبل ازگرفتاری ضمانت میں متعدد مرتبہ توسیع حاصل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…