اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ریڈیو پاکستان کی ساکھ کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت دن بدن زوال پذیر کیا جانے لگا ،افسوسناک انکشافات

datetime 10  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)وزارت اطلاعات کے نمبر ون قومی ادارے ریڈیو پاکستان کی ساکھ کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت دن بدن زوال پذیر کیا جانے لگا ہے۔دشمن بھارت کے چھکے چھڑانے کے لیے جرمنی سے منگوایا گیا 50کروڑ روپے کا ہیوی ٹرانسمیٹر کو زنگ لگنے لگا ہے ۔پروکیورمنٹ میں تنصیب کے لیے فنڈز بھی رکھ لیے گئے مگر وزارت ٹرانسمیٹر کی تنصیب سے ٹال مٹول سے کام لینے لگی ہے۔

انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریڈیو پاکستان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ملیر لانڈی کے لیے جرمنی سے ہیوی ٹرانسمیٹر منگوایا گیا اور اس پر 50کروڑ روپے لاگت آئی تھی اور اس کی تنصیب کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے بھی پروکیورمنٹ کے پاس موجود ہیں مگر چودہ ماہ گزرنے کے باوجود بھی ٹرانس میٹر کو نصب نہ کیا جا سکا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے متعدد بار وزارت سے اجازت طلب کی مگر سابق دور حکومت میں پرویز رشید،مریم اورنگ زیب نے اجازت نہ دی جبکہ اب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری بھی سابق حکمرانوں کی روایت پرچل نکلے ہیں ،ریڈیو پاکستان کے انجیرنگ دیپارٹمنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ باہر سے منگوائی گئی مشینری کو جلد از جلد نصب کیا جائے تو بہتر ہے اور اطلاع ہے کہ اس ہیوی مشینری کی تنصیب کے لیے جرمنی سے ہی انجینئر بلوائے جائیں گے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے ملیر لانڈی میں نصب ہونے والے ہیوی ٹرانس میٹر سے بھارت کے شہر شہر میں ریڈیو پاکستان کی نشریات گونجیں گی اور اس ٹرانس میٹر سے دشمن کے چھکے چھڑائے جا سکتے ہیں  وزارت اطلاعات کے نمبر ون قومی ادارے ریڈیو پاکستان کی ساکھ کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت دن بدن زوال پذیر کیا جانے لگا ہے۔دشمن بھارت کے چھکے چھڑانے کے لیے جرمنی سے منگوایا گیا 50کروڑ روپے کا ہیوی ٹرانسمیٹر کو زنگ لگنے لگا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…