ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں تاریخی کمی،حکومت تو کچھ نہ کرپائی لیکن قائمہ کمیٹی نے بڑا ایکشن لے لیا،سنسنی خیز انکشافات متوقع

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمن ملک نے روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گرنے پر ایف آئی اے جامع رپورٹ 22 دسمبر تک کمیٹی کو جمع کرائے، ساتھ ہی غیر ملکی زرمبادلہ ایکٹ کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفتیش کرے۔

رحمن ملک نے کہا کہ ایف آئی اے تفتیش کرے کہ روپے کی قدر میں اچانک کمی اور اس میں مسلسل گراوٹ کی کیا وجوہات ہیں۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو روپے کی قدر میں کمی کا پہلے سے علم نہ ہو۔سینیٹر رحمن ملک نے مزید کہا کہ روپے کی قدر گرنے میں غیر ملکی ایکسچینج ایجنٹس کا کیا کردار ہے، معلوم کیا جائے کہ کہیں ڈالر کی قلت اس کی قیمت بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر تو پیدا نہیں کی جارہی کیونکہ ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ کچھ ایجنٹ مل کر مارکیٹ سے ڈالر غائب کرکے مصنوعی قلت پیدا کرتے تھے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا کہ ڈالر غائب ہوجانے کے بعد اسٹیٹ بینک کو کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے ڈالر مہنگے داموں لینا پڑتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کون اور کتنے وقت میں روپے کو گرانے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ کیا روپے کی قدر گرانے سے کسی خاص گروپ نے تو فائدہ نہیں اٹھایا؟سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ کیا روپے کی قدر کم کرتے وقت اس کی رازداری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا؟ان کا کہنا تھا کہ 17 جولائی کو ڈالر کی قیمت اچانک 107 سے 128 روپے ہوئی اور پھر 128 سے 134 جبکہ 30 نومبر کو یہ قیمت مزید بڑھتے ہوئے 144 روپے تک پہنچ گئی۔رحمن ملک نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے وعدوں اور معاہدوں کو سامنے لائے اور ایف آئی اے روپے کی قدر گرنے میں غیرملکی زرمبادلہ، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے کردار کو دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضروت ہے کہ روپے کی قدر گرنے کے پیچھے عوامل معلوم کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…