منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’اب والدین پیدائش سے پہلے بچے کی جنس معلوم نہیں کر سکیں گے ‘‘ پی ٹی آئی حکومت نے کونسا قانون لانے کا فیصلہ کر لیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے اعلان کیا ہے کہ صنفی امتیاز کے خاتمے کے لئے حاملہ خواتین کو الٹرا سائونڈ پر بچے کی جنس بتانے پر پابندی کا قانون لایا جائے گا تاکہ بچی ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرانے کے قابل مذمت رجحان کا خاتمہ کیا جاسکے۔پنجاب حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ویمن‘ کے اشتراک سے ’صنفی تشدد کے خاتمے‘

کے موضوع پر سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں انہوں نے کہا کہ بعض لوگ دوران حمل ہی بچے کی جنس معلوم کراتے ہیں اور بیٹا نہ ہونے کی صورت میں اسقاط حمل کرا لیتے ہیں۔ یاد رکھیں حضور اکرمؐ نے 1400 سال قبل بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی روایت کا خاتمہ کردیا ہے۔ اسلام خواتین کو برابر کے حقوق دیتا ہے،ہمیں اسلامی تعلیمات کا عملی نفاذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ برملا خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ آج جس مقام پر ہیں وہ ان کی والدہ محترمہ کی وجہ سے ہے۔ ماں سے محبت کے ثبوت میں ہی انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال جیسا بین الاقوامی سطح کا ہسپتال تعمیر کرایا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے زور دیا کہ معاشرے میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کئے بغیر استحکام نہیں آسکتا۔ خاتون پر تشدد سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ خاتون پر تشدد سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی خواتین محفوظ نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا انعقاد خواتین کے تشدد کے خاتمے کے پنجاب حکومت کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ وقت آگیا ہے کہ خواتین کو زیادہ بااختیار بنا کر پاکستانی معاشرے کو ترقی کی نئی سمت کی جانب گامزن کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…