منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

علاج کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو اب یہ لوگ بالکل مفت سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرواسکیں گے، پی ٹی آئی حکومت نےپاکستانیوں کیلئے ایسی سہولت کا اعلان کر دیا جو کوئی سابقہ حکومت نہ کر سکی

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز  ڈیسک )وفاقی وزیر برائے صحت عامر محمود کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ صحت پر غیر معمولی اخراجا ت ہیں۔ عزت مآب وزیر اعظم پاکستان کی خواہش پر وزارت قومی ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینشن نے سماجی صحت تحفظ کی شروعات ( صحت کارڈز ) کے دائرہ کار میں اضافہ کر دیا ہے جس کے

تحت ان کارڈز کے ذریعے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے (2ڈالرز یومیہ کمانے والوں) کو طبی نگہداشت کے غیر معمولی اخراجات سے مالیاتی تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ یہ صحت کارڈ غریب استفادہ کنندگان کو ان ڈور صحت کی سروسز تک رسائی دیں گے اور ان کا 72,0000تک کا علاج ہو گا جو وہ اپنی پسند کے کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال سے باوقار طو رپر کروا سکیںگے۔اس سکیم میں میڈیکل اور سرجری کی کئی ان ڈور سہولیات کی فراہمی شامل ہیں ۔ صحت کارڈ سکیم میں دل کے آپریشنز ، سٹنٹس ڈالوانا، کیمو تھراپی ، ریڈیوتھراپی ، ڈائیلالائسیز ، میٹرینٹی اور دیگر میڈیکل و سرجیکل سروسز شامل ہیں ۔ وفاقی وزیر نے یہ بات آج نیشنل ہیلتھ پروگرام فیز2کی بڈنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ اس مقصد کے لئے وزارت نے انشورنس کمپنی کی خدمات کے حصول کے لئے خریداری عمل شروع کر دیا ہے اور ہائر کی کمپنی آئندہ 3 سالوں میں صحت سکیم کارڈز پر عمل درآمد کرے گی ۔ اس سکیم پر عمل درآمد سے کل 14ملین خاندانوں یعنی تقریباً 8کروڑ افراد کا اندراج ہو گا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صحت کے شعبہ میں بہتری لانے کیلئے دِن رات کام کررہے ہیں،عوام نے جو ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈالی ہے انشااللہ ہم عوام کی توقعات پر پور ااُتریں گے اور ایک سال کے اندر صحت کے شعبہ میں نمایاں تبدیلی نظر آئیگی کیونکہ ہماری حکومت صحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…