منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

غریب کا وینٹی لیٹر اتار کر امیر کو لگا دیا جاتا ہے،خیبرپختونخواہ کے ہسپتالوں میں ایک بسترپر تین، تین مریض پڑے ہیں ،پاکستان میں صرف کون لوگ علاج کروا سکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے ’نیا پاکستان ‘بنانیوالوں کی قلعی کھول کر رکھ دی

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں علاج وہی کرا سکتا ہے جو مالدار یا بااثر ہو، غریب کا اچھا علاج نہیں ہوتا،میڈیکل تعلیم بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے مگر ہم اتائی زیادہ پیدا کر رہے ہیں، اسپتالوں میں دیکھا کہ علاج کے بنیادی آلات ہی نہیں،کوئی امیر آجائے تو غریب کو لگا وینٹی لیٹر اتارکر امیر کو لگا دیا جاتا، خیبر پختونخوا کے

اسپتالوں میں گیا تو دیکھا کہ ایک بستر پر 3،3 مریض تھے، یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے،ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قیمتیں دوبارہ بھی دیکھنی ہیں تاکہ ڈالر سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ ہفتہ کو راولپنڈی میں ہارٹ اسٹروک کانفرنس سے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ تکلیف کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، والدہ کی بیماری میری زندگی کا تکلیف دہ امر تھا، میں نے یہ دیکھا کہ پاکستان میں علاج وہی کرا سکتا ہے جو مالدار یا بااثر ہو۔ اس لئے صحت کے شعبہ میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا کہ ہر غریب کا آسان علاج ہوسکے، میں نے سپریم کورٹ کے ججوں سے بھی چندہ لے کر اسپتالوں کو دیا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاشرہ کے بیمار افراد کے علاج پر توجہ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن غریب کا اچھا علاج نہیں ہوتا حالانکہ یہ اس کا قانونی حق ہے، اسپتالوں میں دیکھا کہ علاج کے بنیادی آلات ہی نہیں، وینٹی لیٹرز خراب تھے اور جو ٹھیک تھے وہ صرف سفارشیوں کے لیے تھے، کوئی امیر آجائے تو غریب کو لگا وینٹی لیٹر اتارکر امیر کو لگا دیا جاتا، خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں گیا تو دیکھا کہ ایک بستر پر 3،3 مریض تھے، یہ حکومت کی مکمل ناکامی ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ صحت کے شعبہ میں حکومتی فنڈز بہت کم ہیں اور وہ بھی درست استعمال نہیں ہوتے، اب میڈیکل تعلیم بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے مگر ہم اتائی زیادہ پیدا کر رہے ہیں، نجی میڈیکل اسپتالوں کا

معاملہ دیکھا تو بتایا گیا پڑھانے والا ہی کوئی نہیں مگر وہ ڈاکٹر بنتے ہیں، میں یہ سن کر ڈر گیا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں، سینئر ڈاکٹروں کی ذمہ داری ہے کہ اس پر نظر رکھیں، ادویات اور علاج کے اخراجات کی قیمتیں مقرر کر دیں،ڈالر کی قیمت بڑھنے سے قیمتیں دوبارہ بھی دیکھنی ہیں تاکہ ڈالر سے ہم آہنگ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا ہر کام میرٹ پر کریں گے تو اس کافائدہ سالہا سال ہو گا، ہسپتالوں کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ صحت کی سہولتوں کو معیاری بنانے کی ضرورت ہے،سروسز ہسپتالوں کے مختلف شعبوں کو ادویات کی کمی کا سامنا ہے، ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، سفارشی کلچر ختم ،تمام کام میرٹ پر ہونا چاہیے۔(اح

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…