ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

قائداعظم اول نے لندن سے آ کر ملک بنایا اور قائداعظم ثانی ملک توڑ کر لندن چلا گیا، ملک نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا،ریاست مدینہ سے پہلے اسےریاست بنانا ہو گا، جاوید چوہدری کی کپتان کی قیادت میں قومی حکومت کی تجویز

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی و دانشوراور تجزیہ کار جاوید چوہدری ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ اپنی تحریر میں سماجی مسائل کاجہاں نہ صرف احاطہ کرتے رہتے ہیں وہیں اس کے نہایت قابل عمل اور نتیجہ خیز حل بھی پیش کرتے ہیں ۔ جاوید چوہدری نے اپنے آج کے کالم میں جہاں وطن عزیز کے معاشی مسائل کا احاطہ اور ان کا حل پیش کیا ہے وہیں سیاسی و ملک کو

درپیش نازک صورتحال پر تجویز پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بدھ 5 دسمبر کو بہت اچھا قدم اٹھایا‘ اسلام آبادمیں آبادی کے کنٹرول پر سمپوزیم کیا اور وزیراعظم‘ چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور پوری وفاقی کابینہ کو اکٹھا بٹھا دیا‘ مجھے یقین ہے یہ پالیسی اب قومی پالیسی بن جائے گی اور ریاست اس پر دل و جان سے عمل کرے گی‘ میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے آپ یہ سلسلہ تھوڑا سا آگے بڑھا دیں‘ آپ جاتے جاتے ملک کے گیارہ بڑے مسئلوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا بٹھا ئیں اور دس سال کےلئے قومی پالیسیاں بنا دیں‘آپ آرمی چیف‘ ملک کی تینوں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں‘ وزیراعظم‘ وزراءاعلیٰ اور ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو بٹھائیں اور معیشت‘ ڈویلپمنٹ‘ جمہوریت‘ انصاف‘ قانون‘ مذہب‘ تعلیم‘ روزگار‘ صحت‘ پانی اور فارن پالیسی پر ملک کےلئے دس سال کا روڈ میپ تیار کروا دیں اور فیصلہ کر دیں ملک کا کوئی ادارہ اب اس پالیسی کو نہیں چھیڑ ے گا‘ آپ ریاست کو اس ایجنڈے کی تکمیل کا ہدف بھی دے دیں اور اگر ممکن ہو توآپ عمران خان کی سربراہی میں ایک نیشنل گورنمنٹ بھی بنا دیں‘ کیوں؟کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے یہ ملک اب نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ ہم جتنی دیر کریں گے یہ مریض اتنا موت کے قریب ہوتاچلا جائے گالہٰذا ہمیں جذبات سے نکل کر

اب پریکٹیکل قدم اٹھانا ہوں گے‘ ہمیں ریاست مدینہ سے پہلے اس ریاست کو ریاست بنانا ہوگا اور یہ دس بیس سال کے حتمی روڈمیپ کے بغیر ممکن نہیں اور یہ روڈ میپ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی اجتماعی میٹنگ کے سوا نہیں بن سکے گا اور نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ہم نے اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا تو تاریخ ہمارے بارے میں بآواز بلند کہے گی‘ یہ وہ لوگ تھے جو ریاست کو ریاست مدینہ بناتے بناتے ریاست ہی سے محروم ہو گئے‘ قائداعظم اول نے لندن سے آ کر ملک بنایا اور قائداعظم ثانی ملک توڑ کر لندن چلا گیا۔کیا ہم یہ چاہتے ہیں!۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…