جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

پہلے تو وزیراعظم تھے ، اب تو فراغت ہی فراغت ہے بیٹوں سے جائیداد سے متعلق پوچھ لیتے کہ۔۔۔جج ارشد ملک نے نواز شریف سے ایسا سوال پوچھ لیا جو چیف جسٹس نے بھی نہیں پوچھا تھا، جانتے ہیں آگے سے کیا جواب دیا گیا؟

datetime 5  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں احتساب عدالت میں بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا ہے کہ اثاثے بنائے حسن نواز نے اور جے آئی ٹی نے مجھے مالک قرار دیا، سیاسی مخالفین کی جانب سے میرے خلاف الزامات لگائے گئے، میرے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی عدالت کو دستاویزات پیش کروں گا،جے آئی ٹی کی

یکطرفہ رپورٹ کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے حکم پر ریفرنس دائر کیے گئے، واجد ضیا اور تفتیشی افسر کامران نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی۔ بدھ کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بطور ملزم تحریری بیان جمع کرادیاجسے عدالت کے کمپیوٹر میں منتقل کردیا گیا ہے۔ نواز شریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں 136 سوالوں کے جواب دے دیے اور باقی چار سوالوں کے جوابات کچھ درستگیوں کے بعد کل جمع کرائیں گے۔سماعت کے دوران فاضل جج ارشد ملک نے نواز شریف سے براہ راست سوال پوچھتے ہوئے کہا، پہلے تو میاں صاحب وزیراعظم تھے، معاملات میں مصروف تھے، آپ کو بیٹوں سے جائیداد کی دستاویزات سے متعلق پوچھنا چاہیے تھا۔اس موقع پر وکیل خواجہ حارث نے جواب دیتے ہوئے کہا بچے جوان ہیں نواز شریف ان پر پریشر نہیں ڈال سکتے تھے جس پر جج ارشد ملک نے کہا پھر بھی پوچھ تو سکتے ہیں، بیٹے تو ہیں نا۔جج ارشد ملک نے فلیگ شپ ریفرنس کے بارے میں نواز شریف سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بچے فلیٹس خریدتے تھے اور تزئین و آرائش کرکے کمپنیاں بناکر بیچ دیتے تھے۔ جج ارشد ملک نے ریمارکس دیے کہ حسین نواز کے ذریعے حسن نواز کو رقم جاتی تھی، حسین نواز ہی آجاتے تو مسئلہ حل ہوجاتا،

یا ٹرائل کے دوران قطری ہی آ جاتا تو مسئلہ حل ہو جاتا۔نواز شریف نے 342 کے بیان میں کہا کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے میرے خلاف الزامات لگائے گئے، میرے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا لیکن پھر بھی عدالت کو دستاویزات پیش کروں گا، جے آئی ٹی کی یکطرفہ رپورٹ کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے حکم پر ریفرنس دائر کیے گئے، حسن نواز نے اثاثے بنائے اور جے آئی ٹی رپورٹ میں مجھے غلط مالک قرار دیا گیا، واجد ضیا اور تفتیشی افسر کامران کے علاوہ کسی گواہ نے میرے خلاف بیان نہیں دیا، ان دونوں نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…