جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پا کستان پر قر ضو ں کا بو جھ 95ارب ڈالر ز ہو چکا مغربی ممالک قرض دیکر کیسے پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں چینی اخبار کی چشم کشا رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

بیجنگ(آئی این پی)پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم 95ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جبکہ 2022-23میں ڈیٹ سروسنگ کی حد 31ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی ، پاکستان کو قرض دینے والے مغر بی مما لک اس کی مالیاتی پالیسیوں اور خودمختاری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ،سی پیک کی ڈیٹ سروسنگ رواں سال شروع ہوگی جو کہ زیادہ سے زیادہ سا لا نہ صرف80ملین ڈالر

تک جائے گی ۔ہفتہ کو چائنہ ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سی پیک کے تحت چین سے مختلف منصوبوں کیلئے قرض حاصل کئے ہیں ، سی پیک کے تحت چین کے صوبہ سنکیانگ کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا ، متعدد منصوبے پاکستان میں توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے رہے ہیں جو کہ معاشی شرح نمو کیلئے ناگزیر ہیں ، سی پیک کے تحت حاصل کئے جانے والے قرضوں کی ادائیگی رواںسال شروع ہو گی جو کہ زیادہ سے زیادہ 80ملین ڈالر سالانہ ہے ۔ پاکستان کو سب سے زیادہ قرض ادا کرنے والا ملک چین نہیں بلکہ مغربی ممالک ہیں جن میں سے سب سے زیادہ قرضہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کی جانب سے دیا گیا ہے ۔ پاکستان کا قرض 95ارب ڈالر تک ہو چکا ہے جبکہ اسے 2022 اور2023میں ڈیٹ سروسنگ کی مد میں 31ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے ، اس چیز کے واضح نشانات موجود ہیں کہ پاکستان کو قرض دینے والے مغربی ممالک پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں اور خودمختاری پر مختلف طریقوں سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر قرضوں کی ری شیڈولنگ کردی جاتی ہے ۔ میڈیا ان اقدامات کو کبھی شائع نہیں کرتا اور نہ ہی یہ معلومات فراہم کی جاتی ہیں کہ سی پیک کے تحت پاکستان نے جو قرض حاصل کئے ہیں ان کا فائدہ براہ راست عوام کو حاصل ہوا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…