جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

لاپتہ افراد بازیاب کروائو یا پھر۔۔ سندھ ہائیکورٹ نے پولیس افسران کی دوڑیں لگوا دیں ایسا حکم جاری کر دیا کہ ہلچل مچ گئی

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ پولیس نے لاپتا افراد کو بازیاب نہ کرایا تو افسران کو جیل بھیجیں گے۔سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے لاپتا افراد کی عدم بازیابی سے متعلق پولیس رپورٹس پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ اب عدالت اس معاملے میں پولیس پر سختی کرے گی، بازیابی میں پیش رفت

نہ ہونے پر پولیس افسران کو جیل بھیجیں گے۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیے کہ پولیس رپورٹس سے عوام مایوس ہوچکے ہیں، افسران کچھ تو خدا کا خوف کریں، لاپتا شہریوں کو جلد بازیاب کرایا جائے، ہر بار تفتیشی افسران اسٹیریو ٹائپ رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہیں، کسی کیس میں پیش رفت نہیں ہوئی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ محمد جاوید 2015 سے سہراب گوٹھ سے لاپتا ہے اور اس کی بازیابی کے لیے کوشش کررہے ہیں، ایک اور شہری سہیل کی گمشدگی پر رینجرز اور حساس اداروں کو خطوط لکھے لیکن جواب نہیں ملا۔ پاسبان کے جنرل سیکرٹری عثمان معظم کے بیٹے سعد صدیقی کی گمشدگی کی درخواست پر پیش نہ ہونے پر عدالت نے پولیس کے ایس ڈی پی او پر برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے ایس ڈی پی او گلبرگ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب کوتاہی سے کام نہیں چلے گا،کسی کیس میں پیش رفت نہیں ہوئی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ محمد جاوید 2015 سے سہراب گوٹھ سے لاپتا ہے اور اس کی بازیابی کے لیے کوشش کررہے ہیں، ایک اور شہری سہیل کی گمشدگی پر رینجرز اور حساس اداروں کو خطوط لکھے لیکن جواب نہیں ملا۔ پاسبان کے جنرل سیکرٹری عثمان معظم کے بیٹے سعد صدیقی کی گمشدگی کی درخواست پر پیش نہ ہونے پر عدالت نے پولیس کے ایس ڈی پی او پر برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے ایس ڈی پی او گلبرگ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب کوتاہی سے کام نہیں چلے گا، لاپتا افراد کی بازیابی کے معاملے پر الیکٹرانکس اور پرنٹ میڈیا سے بھی مدد لی جائے۔ سندھ ہائی کورٹ نے پولیس، رینجرز، سندھ حکومت اور دیگر فریقین سے 9 جنوری 2019 کو پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…