جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آسیہ مسیح کی رہائی کا فیصلہ کسی نے پڑھا ہی نہیں ، گستاخانہ خاکےہوں یا کسی کو مشیر لگانا، کونسا مذہبی گروپ کیا کام کر رہا ہے؟دہشتگردی کی جنگ کے بعد اب پاکستان کو کس جنگ کا سامنا ہے، فواد چوہدری نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی )وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا،وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولﷺ ہیں،موجودہ حکومت پاکستان کی مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی، آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، لوگ مذہب کالبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کررہے ہیں۔

اتوار کو لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا پاکستان میں کچھ لوگ مذہب کے نام پر سیاست کررہے ہیں، مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، جس کو نبی کریمﷺ سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں، وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولﷺ ہیں، موجودہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔فواد چوہدری نے کہا کہ مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا، یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے جو دلیل سے جیتی جاتی ہے، ہمارے ہاں سیاسی بحران نہیں فکری بحران ہے، دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے علما کو شہید کیا گیا، صوفیا کرام کے عبادت گاہوں پر حملے کیے گیے، ماضی میں ریاست نے اس سب کو تماشائی بن کر دیکھا، ریاست لمبے عرصے تک غیر روایتی جنگ میں شریک رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی نہیں فکری بحران ہے ، لوگ مذہب کالبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ توہین آمیز خاکے ہوں یا کسی کو مشیر لگانا ایک طبقہ ہر مسئلے پر سیاست کرتا ہے، ہمارے مذہبی اکابرین کو اس نظریاتی جنگ میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا، ماضی کے برعکس حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگی، نظریات کی لڑائی کو ان ہاتھوں

میں جانے سے روکیں گے جو ہمارے مذہب کی خدمت نہیں کررہے۔ ملک کی مذہبی قیادت سے درخواست ہے کہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، ریاست جب تک تمام مسالک کو برابری کا ماحول نہ دے مسائل حل نہیں ہوں گے۔وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے کہا کہ یہ لوگ ہر ہفتے ایک نیا مسئلہ نکال کر سیاست چمکاتے ہیں ، یہ نظریات کی لڑائی ہے،یہ بندوق سے نہیں دلیل سے لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی نے پڑھا ہی نہیں ، ریاست کی ناکامی یہ ہوئی کہ بندوق والے کی دلیل کے سامنے دوسروں کوبچانہیں سکی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…