جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

آسیہ مسیح کی رہائی کا فیصلہ کسی نے پڑھا ہی نہیں ، گستاخانہ خاکےہوں یا کسی کو مشیر لگانا، کونسا مذہبی گروپ کیا کام کر رہا ہے؟دہشتگردی کی جنگ کے بعد اب پاکستان کو کس جنگ کا سامنا ہے، فواد چوہدری نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی )وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا،وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولﷺ ہیں،موجودہ حکومت پاکستان کی مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی، آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، لوگ مذہب کالبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کررہے ہیں۔

اتوار کو لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا پاکستان میں کچھ لوگ مذہب کے نام پر سیاست کررہے ہیں، مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، جس کو نبی کریمﷺ سے عشق نہیں وہ مومن ہی نہیں، وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولﷺ ہیں، موجودہ حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔فواد چوہدری نے کہا کہ مذہبی قیادت کو ملک میں جاری نظریاتی جنگ کو اپنانا ہوگا، یہ لڑائی نظریات کی لڑائی ہے جو دلیل سے جیتی جاتی ہے، ہمارے ہاں سیاسی بحران نہیں فکری بحران ہے، دلیل کی بنیاد پر بات کرنے والے علما کو شہید کیا گیا، صوفیا کرام کے عبادت گاہوں پر حملے کیے گیے، ماضی میں ریاست نے اس سب کو تماشائی بن کر دیکھا، ریاست لمبے عرصے تک غیر روایتی جنگ میں شریک رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا آسیہ کیس کے بعد پیدا ہونے والا بحران حکومت کا نہیں بلکہ معاشرے کا بحران ہے، فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی نہیں فکری بحران ہے ، لوگ مذہب کالبادہ اوڑھ کر بحران پیدا کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ توہین آمیز خاکے ہوں یا کسی کو مشیر لگانا ایک طبقہ ہر مسئلے پر سیاست کرتا ہے، ہمارے مذہبی اکابرین کو اس نظریاتی جنگ میں اپنا کردار اداکرنا ہوگا، ماضی کے برعکس حکومت مذہبی قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگی، نظریات کی لڑائی کو ان ہاتھوں

میں جانے سے روکیں گے جو ہمارے مذہب کی خدمت نہیں کررہے۔ ملک کی مذہبی قیادت سے درخواست ہے کہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں، ریاست جب تک تمام مسالک کو برابری کا ماحول نہ دے مسائل حل نہیں ہوں گے۔وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے کہا کہ یہ لوگ ہر ہفتے ایک نیا مسئلہ نکال کر سیاست چمکاتے ہیں ، یہ نظریات کی لڑائی ہے،یہ بندوق سے نہیں دلیل سے لڑی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی نے پڑھا ہی نہیں ، ریاست کی ناکامی یہ ہوئی کہ بندوق والے کی دلیل کے سامنے دوسروں کوبچانہیں سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…