پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

حامد میر کا نام ان کی والدہ نے کیوں تبدیل کر دیا تھا ، ان کا نام پہلے کیا تھا؟ حامد میر کرکٹر بننا چاہتے تھے مگر شہباز شریف جنرل ضیا کے کہنے پر کیسے انکی راہ میں رکاوٹ بنے رہے؟صحافی مظہر برلاس کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 16  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی مظہر برلاس اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ آج کل ’’ڈونکی کنگ‘‘ کا بڑا چرچا ہے۔ کئی لوگ یہ فلم دیکھ چکے ہیں، کچھ دیکھنا چاہتے ہیں، دیکھ کر آنے والے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔ معروف صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ ’’میری والدہ مجھے کھوتا کہتی تھیں، آج وہ ہوتیں تو بہت خوش ہوتیں‘‘ حامد میر کی والدہ

بڑی نیک سیرت خاتون تھیں، انہوں نے ساری زندگی درویشی کی چادر اوڑھے رکھی، انہوں نے ایک صوفی بزرگ کے کہنے پر حامد میر کا نام تبدیل کیا ورنہ پہلے تو یہ نام حارث میر تھا۔ شاید صوفی بزرگ نے یہ نام اس لئے تبدیل کیا ہو کیونکہ خیبر کی سرداری رکھنے والے یہودی مرحب کے بھائیوں کے نام حارث اور انتر تھے۔ حامد میر کرکٹر بننا چاہتا تھا مگر میاں شہباز شریف ایک فوجی آمر کے کہنے پر راستے کی رکاوٹ بنے رہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شہباز شریف کیسے رکاوٹ بنے ہوں گے تو اسے واضح کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک زمانے میں شہباز شریف لاہور کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔یہ باتیں آج مجھے اس لئے یاد آ رہی ہیں کہ آج کل میاں شہباز شریف آشیانہ ہائوسنگ اسکیم میں بدعنوانی کرنے کے الزام میں نیب کی حراست میں ہیں۔ شہباز شریف زندگی میں صرف ایک کرکٹر کے لئے رکاوٹ نہیں بنے بلکہ کئی لوگوں کے لئے رکاوٹ بنے۔ جس مقدمے میں وہ زیر حراست ہیں اس میں بھی وہ ایک کمپنی کے لئے رکاوٹ بنے تھے۔ اس کمپنی کا نام لطیف اینڈ سنز ہے۔ شہباز شریف میرٹ پر تو اس کمپنی کو نظرانداز نہیں کر سکتے تھے لہٰذا انہوں نے لطیف اینڈ سنز کی رکاوٹ بننے کے لئے ایک اور منفرد راستے کا انتخاب کیا، باہمی معاہدوں کے اس راستے کے تحت انہوں نے لطیف اینڈ سنز کو آشیانہ اسکیم سے الگ کر دیا۔ یہ کمپنی جو 180ارب سے زائد کے

منصوبوں کو مکمل کر چکی ہے، اس کا ٹریک ریکارڈ بھی انتہائی شاندار ہے، یہی شاندار ریکارڈ ہی اسے عدالتوں کی طرف لے گیا، یہیں سے آشیانہ اسکیم میں ہونے والی بدعنوانیوں کا بھانڈہ پھوٹنا شروع ہوا۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو شہباز شریف وزیر اعلیٰ تھے انہوں نے طاقت کے بل بوتے پر لطیف اینڈ سنز کو بدنام کروانے کی پوری کوشش کی۔ ہو سکتا ہے یہ کوششیں اب بھی ہو رہی ہوں

مگر یقین کیجئے کہ اگلے چند دنوں میں آشیانہ اسکیم کے سلسلے میں کچھ اور لوگوں کو گرفتار کر لیا جائے گا، کہیں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس مرتبہ بے رحمانہ احتساب ہو گا، کسی کو معافی نہیں ملے گی۔ لوگو! یاد رکھو طاقت ہمیشہ آپ کے ساتھ نہیں رہتی، حکومت بھی ہمیشہ آپ کی نہیں رہ سکتی، ہمیشہ کی طاقت، ہمیشہ کی حکومت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…