پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوامیںآئندہ مالی سال کا چھ سو اڑتالیس ارب روپے کا بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں گزشتہ بجٹ کی نسبت بڑا اضافہ کردیاگیا

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)خیبرپختونخوا اسمبلی میں آئندہ مالی سال2018-19کیلئے چھ سو اڑتالیس ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا،ترقیاتی بجٹ ایک سو اسی ارب،تعلیم ایک سو ستاسٹھ ارب تیس کروڑ،صحت اٹھہتر ارب پینسٹھ کروڑ،اعلیٰ تعلیم کے لئے اٹھارہ ارب بیاسی کروڑ روپے مختص کئے گئے ،سو روزہ پلان کے تحت اقدامات کے لئے بھی دو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کاکہنا تھا کہ تیس بلین اضافی بجٹ پیش کررہے ہیں،

کسی صوبائی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا۔تنخواہوں اور پنشن میں گزشتہ بجٹ کی نسبت سترہ فیصد اضافہ کیا گیا۔خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر مشتاق غنی کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس میں صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے آئندہ مالی سال کا چھ سو اڑتالیس ارب روپے کا بجٹ پیش کیا،بجٹ تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ چھ سو اٹھارہ ارب روپے ہے،گزشتہ سال کے محصولات کا تخمینہ چھ سو تین ارب روپے تھا،جاری اخراجات کی مد میں چار سو اٹھتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں ، ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک سو اسی ارب روپے رکھے گئے ہیں ، بجٹ میں کسی صوبائی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا ،مزید 8لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ فراہم کریں گے ،نواجوانوں کے لئے بلاسود قرضوں اور تربیت کے لئے 5ارب روپے رکھے گئے ہیں ،اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے 9ارب 60کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ،صوبائی وزیز خزانہ کیمطابق تنخواہوں اور پنشن کی لاگت 316بلین ہے جو گزشتہ سال 271بلین تھی ،بجٹ میں تعلیم کے لیے 167 ارب تیس کروڑ روپے،ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 146 ارب 11 کروڑ ،اعلی تعلیم کے لئے 18 ارب 80 کروڑ،صحت کے شعبے کیلیے 78 ارب 65 کروڑ روپے،،امن و امان کے لیے 62.5ارب مختص کئے ہیں، ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے 39.6ارب روپے مختص کیے ہیں ،اسی طرح مقامی حکومتوں کے نظام کے لیے 29.3ارب روپے ، زرعی ترقی کے لیے 24.20ارب رکھے گئے ہیں،

جنگلات کے لیے 6.5بلین روپے مختص کئے گئے ہیں، شہری ترقیاتی کام کے لیے 4.1بلین روپے رکھے گئے ہیں ،اسی طرح نرجی اینڈ پاور کے لیے بجٹ میں چار گنا اضافہ کیا گیا ہے،صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی کے خالص منافع میں 36 ارب روپے کے بقایاجات بھی شامل ہیں، 41 ارب روپے صوبائی ٹیکسز اور نان ٹیکسز سے وصول ہونگے،426ارب مرکزی حکومت سے موصول ہونے ہیں،71ارب روپے بیرونی امداد کی صورت میں ملیں گے،وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 30بلین اضافی بجٹ پیش کررہے ہیں ،،پچھلے سال کا بجٹ 148بلین روپے تھا ،سو روزہ پلان کے تحت اقدامات کے لئے 2ارب روپے مختص کئیگئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…