جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈی پی او پاک پتن تبادلہ کیس ٗاحسن جمیل نے جواب جمع کرادیا،حیرت انگیز انکشافات

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈی پی او پاک پتن تبادلہ کیس میں احسن جمیل گجر نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا جس میں انہوں ںے نیکٹا کی رپورٹ پر اعتراض اٹھایا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاک پتن کے تبادلے کے معاملے پر انکوائری رپورٹ پر فریقین سے رائے طلب کی تھی۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے قریبی ساتھی احسن جمیل گجر نے اپنا جواب عدالت میں جمع کرادیا

جس میں انہوں نے سربراہ نیکٹا کی انکوائری رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ رپورٹ مبہم اور غیر واضح ہے۔احسن جمیل گجر کے مطابق انکوائری افسر نے حقائق کے منافی رپورٹ دی، میں کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ نہیں رکھتا اور میں ایک عام شہری ہوں اور قانون کی پاسداری کرتا ہوں۔جواب میں کہا گیا کہ میرے خلاف ضابطہ کار کی خلاف وزری پر انضباطی کارروائی نہیں کی جاسکتی، مانیکا فیملی کا قریبی دوست ہونے کے ناطے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں گیا۔احسن جمیل گجر کے جواب کے مطابق نیک نیتی کے ساتھ پولیس سے معاملہ حل کرانے کی کوشش کی تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کے دوران انتظامی امور میں مداخلت نہیں کی۔احسن جمیل گجر نے مؤقف اپنایا کہ میں اپنے اقدام پر پہلے بھی ندامت کا اظہار کرچکا ہوں لہٰذا میری استدعا ہے کہ میری حد تک مقدمہ ختم کردیا جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی پی او پاکپتن از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تھی۔اس موقع پر پنجاب پولیس کے سینئر افسر خالق داد لک نے انکوائری رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہی کیا گیا تھا۔ ڈی پی او پاک پتن تبادلہ کیس میں احسن جمیل گجر نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا جس میں انہوں ںے نیکٹا کی رپورٹ پر اعتراض اٹھایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…