بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مہنگے ہیلمٹ سے شہریوں کی جان چھوٹ گئی حکومت نے لوکل اور امپورٹڈ ہیلمٹ کی قیمت مقرر کر دی

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت کے حکم پر سٹی ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سوار کیلئے ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیدیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق موٹرسائیکل سوار کو ہیلمٹ پہننا لازمی قرار دیا ہے ۔ سٹی ٹریفک کے وارننگ جاری کرتے ہی ہیلمٹ کی خریداری میں اچانک اضافہ ہو گیا ، شہریوں کے ہیلمٹ خریدتے ہی ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں لگیں ، جس پر شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ کی شکایت کی جس کےبعد

ہیلمٹ کی قیمتیں مقرر کر دیں گئیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان ضلعی انتظامیہ لاہور نے بتایا ہے کہ مال روڈ پر بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی لگادی ہے ۔ پابندی کی وجہ سے ہیلمٹ کی قیمتوں میں اضافے پر ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ضلعی افسران کی میکلورڈ روڈ کے تاجروں سے میٹنگ ہوئی ۔اجلاس میں ہیلمٹ کی قیمتوں پرفیصلہ کر لیا گیا ۔جس کے مطابق لوکل اور عام ہیلمٹ کی قیمت حد 500روپے جبکہ امپورٹڈ ہیلمٹ کی قیمت 1150روپے مقرر کر دی گئی ہے ۔ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی دکان دار آپ کو ایک ہیلمٹ پر اس سے زائد پیسے وصول کرے تو آپ ہمارے دیئے اس نمبر فوری طور پر 99210630 پر اطلاع دیں ، شہریوں کی اطلاع پر فوری کارروائی کی جائے گی اور ہیلمٹ زائد قیمت پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ جبکہ دوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ نہ پہننے والے 35 ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹ تھما دیئے‘ مال روڈ کے بعد کینال روڈ، فیروز پور روڈ، جیل روڈ اور مین بلیوارڈ پر بھی بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کا داخلہ ممنوع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل چلانے والوں کیخلاف ٹریفک پولیس کا کریک ڈاون جاری ہے۔ پینتیس ہزار شہریوں کو چالان ٹکٹس تھما دیئے گئے ہیں جبکہ صرف مال روڈ پر ہی 6700 چالان کیے گئے۔شہریوں نے سڑکوں پر اس نئی تبدیلی کو خوش آئند کہا ہے انکا کہنا ہے یہ عمل پہلے ہو جانا چاہیے تھادوسری جانب سٹی ٹریفک پولیس نے لاہور کی 4 اہم شاہراہوں کینال روڈ، فیروز پور روڈ، جیل روڈ اور مین بلیوارڈ پر بھی بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کا داخلہ ممنوع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…