بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

قصور میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے جنسی زیادتی کے واقعات کی رپورٹ پیش کر دی گئی، 272بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن ملزمان کا کیا بنا؟انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی )قومی کمیشن برائے اطفال نے قصور میں بچوں کے ساتھ ہونیوالے زیادتی کے واقعات کی رپورٹ پیش کر دی ، تجاویز اور سفارشات پر مبنی رپورٹ وفاقی حکومت، چیف جسٹس آف پاکستان‘ صوبائی ہائیکورٹس اور صوبائی حکومتوں کوبھیجی جائیگی‘ قومی کمشنر برائے اطفال کے زیر اہتمام قصورمیں بچوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کے مسائل کا احاطہ کرنے کیلئے قائم سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقدہوا جس کی صدارت سینیٹر ایس ایم ظفر اور

وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے کی جبکہ اس موقع پر سینئر ایڈوائزر‘ قومی کمشنر برائے اطفال اعجاز احمد قریشی سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی‘ تقریب میں کمشنر برائے اطفال وفوکل پرسن سیدہ وقار النساء ہاشمی نے قصور واقعات کی رپور ٹ‘ سفارشات پر بریفنگ دی‘ وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے کہاکہ کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کی فوری تشخیص اور اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہوتا ہے‘ انہوں نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار چلڈرن نے قصور واقعہ کے عوامل کا جائزہ لیا اورریسرچ کی بنیاد پررپورٹ پیش کی‘ رپورٹ میں دی گئی تجاویز اور سفارشات میں لیگل ریفارمز اور انتظامی ایشوزکووقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیاہے‘انہوں نے کہا کہ بچے ہمارے معاشرہ کا بہت بڑا حصہ ہیں‘ جن کے مسائل کے حل اوران کے حقوق کیلئے قومی کمشنر برائے اطفال مقرر کیا گیا ہے‘ انہوں نے کہاکہ قصور واقعہ کسی ایک ادارہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کا عندیہ ہے جس نے ہمارے ہاتھوں میں آئینہ تھما دیا ہے‘ سید طاہر شہباز نے کہاکہ دنیا میں بچوں کے ساتھ  زیادتی کے بہت سے واقعات ہوتے ہیں‘ پاکستان میں بھی گزشتہ سال 40 ہزار سے زائد واقعات ہوئے جن میں سے ایک ہزارواقعات پنجاب میں ہوئے‘وفاقی محتسب نے شرکاء کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ بچوں کے ساتھ ہونیوالے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کیلئے ون سٹاپ فسیلیٹیشن ڈیسک ہونے چاہئیں‘ سپیکربلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی نے کہاکہ

نیشنل کمیشن برائے اطفال کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ہر صوبے میں ہونا چاہئے تاکہ وہاں کا جائزہ لے سکے اوران مسائل کے حل کی طرف بڑھا جاسکے‘ انہوں نے کہا کہ قصور واقعہ نے دنیا کو ہلاکر رکھا دیا تھا‘ انہوں نے کہا کہ جب تک مجرم کیلئے سزا کا تصور نہیں ہوگا جرم کم نہیں ہونگے‘ ملک میں فوری انصاف کی اشد ضرورت ہے‘ قصورواقعہ پرقائم ٹاسک فورس کے چیئرمین سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ قصورجنسی سکینڈل کی ایک خبر کے بعد پتہ چلا کہ وہاں 272 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی جن میں سے 128 مقدمات عدالتوں میں پہنچے باقی وہیں رفع دفع ہوگئے اور جومقدمات عدالتوں میں پہنچے ان میں بریت کی شرح 80 فیصد رہی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…