جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

پاکستان کے وہ علاقے جہاں3 کالج سمیت 600 سے زائد تعلیمی اداروں میں پچھلے 10 سالوں سے تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں،چونکا دینے والی رپورٹ

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور(اے این این ) خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں قائم 3 کالج سمیت 600 سے زائد تعلیمی اداروں میں گزشتہ 10 برس سے تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور مقامی افراد کی نقل مکانی کے باعث کئی سو ادارے غیر فعال ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود اور اورکزئی میں بدترین صورتحال رہی جہاں 500 سرکاری اسکول

اور کالج میں تالے لگے ہوئے ہیں۔قبائلی اضلاع میں تدریسی اداروں کے نگراں ادارے ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن نے غیر سرکاری معاون اداروں کی مدد سے متعلقہ ایجنسیوں میں بچوں کے لیے ٹینٹ لگا کر تدریس شروع کردی ہے۔یونیسف اور دیگر رفاہی اداروں نے طالبعلموں کے لیے بنیادی ضرورت کی اشیا فراہم کی۔ڈائریکٹریٹ حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں 2 کالج کو دوبارہ کھول دیا گیا جو جون 2014 میں ضرب عضب آرمی آپریشن کے بعد بند ہو گئے تھے۔خیال رہے کہ قبائلی کے 4 لاکھ بچے تاحال تعلیم اداروں میں جانے سے قاصر ہیں۔دستاویزات کے مطابق جنوبی وزیرستان ضلع میں 747 اسکولوں میں سے 486 غیر فعال ہیں جس میں 190 لڑکیوں کے اسکول بھی شامل ہیں۔مزید یہ کہ اسی علاقے میں 282 پرائمری اسکول اور 2 ڈگری کالج بھی میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔حکام کے مطابق غیر فعال تعلیمی اداروں کے ہزاروں اساتذہ جنوبی وزیرستان سے کراچی منتقل ہو گئے یا پھر خلیج ریاستی ممالک جا چکے ہیں تاہم وہ تمام تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔جنوبی وزیرستان کے 2 ڈگری کالج برائے بوائز 2009 سے غیر فعال رہے تاہم متاثرہ طالبعلموں کو ضلع ٹانک کے قریب زیم پبلک اسکول کی بلڈنگ میں منتقل کردیا گیا۔متعدد علاقوں میں اسکولوں کی عمارتیں مسمار ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے کلاسز کا اہتمام درختوں کے نیچے ہورہا ہے۔اس حوالے سے ڈائریکٹر ایجوکیشن فاٹا ہاشم خان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں غیر فعال اسکولوں کی تعداد تقریبا 200 ہیں۔انہوں نے بتایا کہ متعدد علاقوں میں مقامی آباد کار واپس نہیں آئے اور بعض جگہ تاحال سیکیورٹی خدشات ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے غیر فعال ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…