منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پرویز خٹک دور کا نیا سکینڈل سامنے آگیا پشاور میٹرو کا 45کروڑ روپے کا سامان چوری ہونے کا انکشاف پولیس کے گوداموں پر چھاپے ، بڑی کامیابی مل گئی، ملزم گرفتار

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور(نیوز ڈیسک)پولیس نے پشاور کے مختلف گوداموں سے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے چوری ہونے والے 2 کروڑ سے زائد مالیت کے سامان کو برآمد کرلیا، جس میں فولڈنگ پائپ، سریا اور جنگلے شامل ہیں۔کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور قاضی جمیل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہرکے مختلف گوداموں پر چھاپے مار کر 2 کروڑ روپے کا سامان برآمد کیا گیا ہے ٗ

چوری میں ملوث ملزم باسط کو بھی گرفتار کیا گیا۔سی سی پی او نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم باسط نے پولیس کو اْن گوداموں کی نشاندہی کی، جہاں چوری کیا گیا سامان رکھا گیا تھا جبکہ ان 3 افراد کے نام بھی بتائے جنہیں یہ سامان فروخت کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان گوداموں میں چھاپے مارے اور چوری کیا گیا سامان برآمد کرلیا۔گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیاجبکہ سامان خریدنے والے تینوں افراد کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق منصوبے کا 2 کروڑ روپے مالیت کا سامان چوری ہوا جبکہ بی آر ٹی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 45 کروڑ روپیمالیت کا سامان چوری کیا گیا ہے، جس میں فولڈنگ پائپ، سریا اور جنگلے شامل ہیں۔کنسٹرکشن کمپنی کے حکام کے مطابق انہیں سامان کی چوری پر پریشانی ہے ٗ ابھی منصوبہ زیرِ تکمیل ہے۔بی آر ٹی منصوبے کی نگرانی کرنے والے پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اسرار الحق نے بتایا کہ انہیں تعمیراتی سامان کی چوری پر تحفظات ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کا نقصان خیبرپختونخوا حکومت کو نہیں ہوگا، بلکہ منصوبے پر کام کرنے والی تعمیراتی کمپنی یہ نقصان اٹھائے گی۔واضح رہے کہ پشاور ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک دور میں شروع ہوا تھا جو کہ بار بار تبدیلیوں کے باعث التوا کا شکار ہے جس کے باعث اس کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید بھی سامنے آچکی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…