منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

لاہور ہائیکورٹ نے کنواروں کو بڑی خوشخبری سنا دی ایسا مسئلہ حل کر دیا کہ آپ بھی شادی کیلئے فوراََ تیار ہو جائینگے

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کنواروں کو عدالت نے بڑی خوشخبری سنا دی، شادی بیاہ کی تقریبات پر حکومت کی جانب سے لگایا گئے ٹیکس کی وصولی سے ایف بی آر کو روک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے شادی بیاہ کی تقریبات پر نیا ٹیکس لگا دیا گیا تھا جس کے تحت نیا شادی شدہ جوڑا شادی ہال میں تقریب سے قبل 20ہزار روپے ٹیکس ادا کرے گا اور اس حوالے

سے ایف بی آرکی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق شادی ہالز، کمرشل لانز، مارکیو، ہوٹلز، کلب، ریسٹورنٹ اور کمیونٹی سنٹرز پر کیے جانے والے ہر قسم کے فنکشنز پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا اور کسی بھی فنکشن پر آنے والے اخراجات کا کل 5 فیصد ٹیکس کی صورت میں ادا کرنا کا حکم دیا گیا تھاتاہم اب لاہور ہائیکورٹ نے کنوارے اور شادی کی تیاریوں میں مصروف دولہا اور دلہن کو خوشخبری سناتے ہوئے شادی بیاہ کی تقریبات پر حکومت کی جانب سے لگائے گئے ٹیکس کی وصولی سے ایف بی آر کو روک دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے شادی ہالز سے ٹیکس وصولی کے خلاف حکم امتنا میں 25دسمبر تک توسیع کر دی ہے اور تا حکم ثانی ٹیکس ادا نہ کرنیوالے شادی ہالز کو سیل کرنے سے روک دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد جمیل خان کے روبروشادی ہالز مالکان کی تنظیم کے وکیل نے بتایا کہ شادی ہالز والے پہلے ہر تقریب کا 5فیصد ایڈوانس ٹیکس دیتے ہیں اور ایک ٹیکس کی موجودگی میں دوسرا ٹیکس خلاف قانون ہے ۔ عدالت نے ایف بی آر حکام کو طلب کر لیا ہے۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیکس کی وجہ سے شادی کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ شادی ہالز مالکان نئے  ٹیکس کے پیسے بکنگ کیلئے آنیوالے جوڑوں سے وصول کر رہے تھے جس سے متوسط اور غریب طبقوں کے افراد جو کہ شہروں میں مقیم ہیں کیلئے مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…