منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر درخواست،انہوں نے توہین کب اور کیسے کی؟افسوسناک انکشافات

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری باسط علیم نے سابق سینئر پولیس آفیسر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر کی گئی درخواست پر ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو آج منگل کو طلب کر لیا ۔درخواست گزار سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس سلیم اللہ خان نے سیشن کورٹ اسلام آباد میں

درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہوئے نہ صرف لفظ خاتم النبین غلط پڑھا بلکہ ہنسے اور مذاق بھی اڑایا۔ صدر ممنون حسین کی جانب سے لفظ درست کرانے کے باوجود عمران خان نے غلطی دہرائی جبکہ عمران خان لفظ قیامت بھی غلط پڑھ کر مسکرائے جس سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات و جذبات کو ٹھیس پہنچی ۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عمران خان کے دل میں ان الفاظ کی کوئی حرمت نہیں ہے ۔سلیم اللہ کان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ایس ایچ او سیکرٹریٹ محبوب احمد کووزیر اعظم عمران خان کے خلاف 19 اگست کو 295 سی کے تحت مقدمہ اندراج کی درخواست دی مگر پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہ ہوئی ہے ۔لہذا استدعا ہے کہ عدالت پولیس کو عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرے۔عدالت نے آج منگل کو ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ہے ۔  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری باسط علیم نے سابق سینئر پولیس آفیسر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کیلئے دائر کی گئی درخواست پر ایس ایچ او سیکرٹریٹ کو آج منگل کو طلب کر لیا ۔درخواست گزار سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس سلیم اللہ خان نے سیشن کورٹ اسلام آباد میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھاتے ہوئے نہ صرف لفظ خاتم النبین غلط پڑھا بلکہ ہنسے اور مذاق بھی اڑایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…