منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

بیٹی مبشرہ مانیکا کیساتھ پولیس اہلکاروں کی بدتمیزی کا جب خاتون اول بشریٰ عمران کو پتہ چلا تو انہوں نےپھر انہیں کیا قدم اٹھانے کا کہا؟ آئی جی کلیم امام وزیراعظم کو بھی چونا لگا گئے، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 3  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دو روز قبل وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے صحافیوں سے سوالات کا جواب بھی دیا۔ وزیراعظم کی صحافیوں سے ملاقات کی روداد اپنے کالم میں لکھتے ہوئے معروف صحافی رئوف کلاسرا لکھتے ہیں کہ کمرے میں خاموشی تھی۔ سب صحافیوں کی نظریں عمران خان پر تھیں اور سب کے ذہن میں یہی تھا کہ عمران خان

تو مانیکا فیملی کے معاملے پر باقاعدہ ایک سخت پوزیشن لے چکے ہیں۔ وہ تو آئی جی پنجاب کلیم امام کی بات پر یقین کیے بیٹھے ہیں کہ مانیکا فیملی کے ساتھ پولیس نے زیادتی کی۔ سب قصور پولیس کا تھا، انہوں نے رات گئے ننگے پائوں سڑک پر چلتی مانیکا خاندان کی بیٹی کو کیوں روک کر پوچھا۔ عمران خان کا کہنا تھا: پانچ اگست کو پولیس نے بدتمیزی کی، تاہم بشریٰ بی بی نے اس وقت اپنی بیٹی اور بیٹے کو منع کر دیا تھا کہ وہ پولیس کی بدتمیزی کو بھول جائیں، کیونکہ یہ معاملہ اوپن ہوا تو خواہ مخواہ ایشو بنے گا، لیکن اب عمران خان کو پتہ نہیں تھا کہ آئی جی، جو صبح سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے، ان کے ساتھ چیف جسٹس کی کیا گفتگو ہوئی اور وہاں انکوائری افسر ابوبکر خدابخش نے کیا بتایا اور کیسے نئے نئے انکشافات ہوئے، جو کچھ آئی جی نے انہیں چار دن پہلے بتایا تھا، تاہم عدالت میں اس کے برعکس حقائق سامنے آئے۔عمران خان صبر سے سب کی باتیں اور سوالات سن رہے تھے۔ یقینا یہ مشکل کام تھا، رئوف کلاسرا مزید لکھتے ہیں کہ صحافیوں کے ساتھ عمران خان کی تکرار ہو رہی تھی۔ عمران وہی بات بتا رہے تھے، جو انہیں چار دن پہلے آئی جی نے بتایا تھا، جبکہ صحافی وہ سنا رہے تھے، جو آج صبح سپریم کورٹ میں ہوا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ عمران خوش نہ تھے کہ انہیں تازہ ترین صورت کا پتہ نہ تھا۔ ایک وزیراعظم کو اتنی اہم بات کا پتہ صحافیوں سے چل رہا تھا

اور یہ کوئی اچھی بات نہ تھی، عمران خان نے کہا: چلیں اچھا ہے، سپریم کورٹ نے سب کو بلا لیا ہے اور سب بات سامنے آجائے گی۔ عمران خان ابھی بھی سمجھ رہے تھے کہ انہیں آئی جی کلیم امام بتا چکے ہیں کہ قصور پولیس کا ہے، لہٰذا عدالت میں بھی وہ یہی بیان دیں گے اور انکوائری رپورٹ میں بھی یہی کچھ نکلے گا، لہٰذا ایسی کوئی پریشانی کی بات نہیں اور سپریم کورٹ سے مانیکا خاندان یا وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، تاہم جب انہیں عامر متین نے پوری بات بتائی، تو ان کے چہرے پر کچھ پریشانی کے اثرات نمودار ہوئے، لیکن بہت جلد ہی قابو پا کے پھر کہا: چلیں اچھا ہوا، سپریم کورٹ نے بلا لیا ہے۔ اچھا کیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…