منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

انسانیت سوز واقعہ ، 65سالہ ضعیف العمر محنت کش پر بااثر افراد کا بد ترین تشدد ،چوری کا جھوٹا الزام لگا کر سر کے بال ،داڑھی بھنویں مونڈ ڈالیں ،گلے میں پٹہ ڈال کر جوتیوں کا ہار پہنا دیا ، ڈھول بجا کر گلیوں میں پھرایا گیا

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

گوجر خان (این این آئی) چہاری بنگلہ گوجر خان کے رہائشی 65سالہ ضعیف العمر محنت کش پر بااثر افراد کا بد ترین تشدد ‘چوری کا جھوٹا الزام لگا کر سر کے بال داڑھی بھنویں مونڈ ڈالیں گلے میں پٹہ ڈال کر جوتیوں کا ہار پہنا دیا اور ڈھول بجا کر گلیوں میں پھرایا گیا۔ منگلا کے علاقہ ہملٹ تیموڑی میں افسوس ناک انسانیت سوز واقعہ ایس ایچ او منگلا نے رشوت بھی لے لی اور پرچہ درج کرنے کی بجائے علاقہ چھوڑنے کا فرمان جاری کر دیا۔

ایس ایس پی میر پور کے نوٹس پر مقدمہ درج کر لیا گیا دو ملزم گرفتار دیگر روپوش ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں چہاری بنگلہ کے رہائشی قاضی محمد ریاض کے صاحبزادے حامد ریاض اور انجم ریاض نے این این آئی کو بتایا کہ ان کے والد گزشتہ بیس برس سے زائد عرصہ سے منگلا کے علاقہ ہملٹ میں ایک نجی مل میں محنت مزدوری کرتے اہل خانہ کی کفالت کر رہے ہیں اور وہیں پر مقیم ہیں چند دن قبل مقامی امام مسجد حافظ زبیر نے ان پر مسجد کی ٹونٹیاں چوری کرنے کا بھونڈا الزام عائد کیا جس کا وہ کوئی ثبوت بھی نہیں دے سکا پھر مسجد کمیٹی کو بلا کر بھی اس قسم کے جھوٹے الزام لگائے گئے لیکن کوئی ثبوت نہ ملنے پر انھیں مسجد کمیٹی کے اراکین نے شدید تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔قاضی محمد ریاض نے بتایا کہ ان کے سرکے بال داڑھی اور بھنویں تک مونڈ دی گئیں گلے میں پٹہ ڈالا گیا اور جوتیوں کا ہار ڈال کر ڈھول بجاکر ہملٹ کی گلیوں میں گھمایا گیا اس ذلت آمیز سلوک پر ان افراد کے ڈر سے کسی نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی جب وہ شکایت لے کر منگلا تھانے گئے تو ایس ایچ او نے بجائے شکایت درج کرنے کے ان سے دو ہزار روپے رشوت لے لی اور ڈرا دھمکاکر علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا دوسری جانب واقعے کی خبر ملنے پر ایس ایس پی میرپور سید ریا ض بخاری نے متاثرہ شخص کو اپنے دفتر بلالیا ایس ایس پی کے حکم پر قاضی محمد ریاض کی مدعیت میں امام مسجد اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جس کے بعد دو نامزد ملزمان گرفتار کر لئے گئے ہیں جب کہ دیگر روپوش ہو گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…