منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

میں جب وزیراعلیٰ ہائوس پہنچا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے ساتھ موجود شخص کا تعارف کیا کہہ کر کروایا جو کہ دراصل کون تھا؟ڈی پی او رضوان گوندل نے سپریم کورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

datetime 31  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخودنوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت، رضوان گوندل نے وزیراعلیٰ کے ساتھ ہوئی ملاقات کا احوال چیف جسٹس کے سامنے رکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس اوحیدر

کی کال آئی کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملوں، مجھے 10 بجے بلایا گیا ،رات 10 بجے وہاں پہنچ گئے تھے،پورے واقعہ کا آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا، 23،24 اگست والے واقعے کاقائم مقام آر پی او کو بتایا، احسن جمیل کووزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا،احسن جمیل نے پوچھا مانیکافیملی کا بتائیں، لگتاہے ان کیخلاف سازش ہورہی ہے۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ آئی جی پنجاب کلیم امام ، آرپی او ساہیوال اور رضوان گوندل عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دئیے ہیں کہ اگر ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ کسی شخس کے کہنے پر ہوا تو غیر قانونی ہے ، جو بھی واقعات میں شامل رہا ہے سب کو بلائیں گے۔ کیس کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ رضوان گوندل نے حقائق کے خلاف باتیں بتائیں،ایک خاتون کیساتھ بدتمیزی کی گئی تھی، حلفیہ کہتا ہوں کسی کے کہنے پر تبادلہ نہیں کیا،جس سے چاہیںمیرے بارے میں پوچھ لیں، رضوان گوندل مجھ سے پوچھے بغیر وزیراعلیٰ کے پاس گئے۔وزیراعلیٰ ہائوس میں رضوان گوندل سے ہوئی بات چیت کا علم نہیں، تبادلہ کوئی سزا نہین ہوتی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وزیراعلیٰ کے کہنے پر تبادلہ کیا بطور آئی جی پی ڈی پی او کا دفاع کیوں نہیں کیا۔

کیا آرٹیکل 62کا اس کیس پر اطلاق ہوتا ہے؟کیا وزیراعلیٰ پر براہ راست یہ آرٹیکل لگ سکتا ہےجو بھی واقعات میں شامل رہا سب کو بلائین گے، رضوان گوندل کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ہائوس سے طلبی پر وہاں گیا ، وہاںطے ہوا تھا کہ آر پی او ساہیوال انکوائری کرینگے،وزیراعلیٰ کو بتایا کہ کوئی سازش نہیں ہو رہی، وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا مجھے یہ ڈی پی او نہیں چاہئے، وزیراعلیٰ کے اسٹاف افسر نے رات 12بجے کال کر کےتبادلے کا بتایا،رات ساڑھے 12بجے آری پی اوکو بتایا کہ میرا تبادلہ ہو گیا ہے۔حیدر نے پوچھا کہ کیا آپ نے چارج چھوڑ دیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…