منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

احتساب ریفرنسز، احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل نے واجد ضیاکو ’بددیانت‘قرار دیدیا پھر بھری عدالت میں کیا ہوا؟ ایسی خبر آگئی کہ جس کی کوئی بھی توقع نہیں کررہا تھا

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی آج احتساب عدالت میں سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے گواہ واجد ضیا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ، پانامہ جے آئی ٹی سربراہ کو بددیانت قرار دینے پر خواجہ حارث نے معذرت کر لی، نواز شریف کمرہ عدالت میں کارروائی دیکھتے رہے۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دو نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران ان کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے گواہ واجد کے ضیا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔سابق وزیراعظم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا جس کے بعد وہ کمرہ عدالت میں آج کی کارروائی دیکھتے رہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سماعت کے دوران کہا کہ واجد ضیا بار بار بیان بدل رہے ہیں، انہیں کہیں کہ ایک بار سوچ کر جواب دیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ پہلے سوال آنے دیں پھر جواب دیں۔واجد ضیا نے کہا کہ حمد بن جاسم کو خط میں تصدیق اور انویسٹی گیشن میں فرق کی وضاحت نہیں کی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اب میرا اگلا سوال آیا تو آپ مان گئے، یہ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں، ان کے بیانات میں تضاد آرہا ہے۔اس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ حمد بن جاسم سے منسوب خط کی تاریخ غلط درج ہے، یہ ایماندارانہ غلطی ہے جو ہوجاتی ہے جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ آپ کی بددیانتی کی وجہ سے یہ سوالات ہو رہے ہیں۔خواجہ حارث کی جانب سے بددیانت کہنے پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا یہ غلط بات ہے، گواہ کو بددیانت نا کہیں جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ‘میں واجد ضیا کو سوری کہہ کر یہ بات واپس لیتا ہوں۔اس موقع پر واجد ضیا نے کہا کہ اب میں آپ کو کیا کہوں آپ کا پروفیشن ہی ایسا ہے،

آپ کوئی بات کہیں یا پھر نہ کہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کو سوری قبول نہیں تو میں اپنی بات پر قائم ہوں۔واجد ضیا نے کہا میں معذرت چاہتا ہوں جس پر خواجہ حارث نے کہا میں بھی معافی چاہتا ہوں۔جملوں کے تبادلے کے دوران واجد ضیا نے خواجہ حارث کو کہا کہ مجھے آپ کا سوال سمجھ نہیں آیا جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ کمرہ عدالت میں پوچھ کر دیکھ لیں، یہاں آپ کے سوا سب کو میرا سوال سمجھ آیا ہوگا جس پر واجد ضیا نے کہا کہ سوال مجھ سے ہے اس لیے مجھے سمجھ آنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے بھی احتساب عدالت کو دونوں ریفرنسز نمٹانے کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت دیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…