جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کی وجہ سے عمران خان کس طرح وزیراعظم بن گئے؟مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس، حیرت انگیز دعویٰ کردیا،آصف علی زرداری سے بڑا مطالبہ

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کو منانے کی کوششیں شروع کر دیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم کوشش کرینگے اپوزیشن کی طرف سے صدرمملکت کیلئے دوامیدوارنہ ہوں، متفقہ امیدوار سے ہی ہماری جیت ممکن ہوسکتی ہے ، توقع ہے پیپلزپارٹی اپنے فیصلے پرنظرثانی کرے گی،کوشش کریں گے،

اپوزیشن کی طرف سے صدرمملکت کیلئے دوامیدوارنہ ہوں،پاکستان ایک نئے پارلیمانی دورمیں داخل ہورہا ہے،حزب اختلاف کی جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے صدر کیلئے امیدوار چنا،امید ہے آصف زرداری اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے،میں زرداری صاحب کے پاس 100 فیصد کامیابی کی امید لے کر جاؤں گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن نے یہاں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف زرداری کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کیساتھ ملاقات کروں گا،توقع رکھتے ہیں پیپلزپارٹی اورزرداری اپنے فیصلے پرنظرثانی کریں گے،کوشش کرینگے اپوزیشن کی طرف سے صدرمملکت کیلئے دوامیدوارنہ ہوں۔پاکستان نئے دور میں داخل ہو چکاہے متحدہ مجلس عمل نے مجھے اس بات کی اجازت دی ہے کہ میں اتحادی جماعتوں کی آفر قبول کر لوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیاں صدر کے نام کے انتخاب پر اختلاف پیدا ہوااور کسی ایک متفقہ امیدوار کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہوا تو ن لیگ نے میرانام دے دیا ن لیگ کو اعتزاز احسن پر اعتراض تھا میں آصف علی زرداری سے اسی سلسلے میں ملاقات بھی کروں گااگر اپوزیشن کا متفقہ امیدوار ہوگا تو جیت ہماری ہی ہے ۔پیر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان ایک نئے پارلیمانی دورمیں داخل ہورہا ہے،صدر مملکت کے انتخاب کے مراحلے سے قوم گزر رہی ہے،حزب اختلاف کی جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے اس انتخاب کیلئے امیدوار چناتمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کے اعتماد پر شکر گزار ہوں،

اس مرحلے کو جمہوری روایات کیساتھ عبور کرنا ہے ان جماعتوں نے اس لئے مجھ پر اعتماد کیا کہ میں سب کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہوں،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک دوسرے کے ناموں پر اختلاف رہا،مسلم لیگ (ن) کو متفقہ امیدوار لانے پر اعتراض نہیں بلکہ ایک فرد پر اعتراض تھا،مسلم لیگ (ن) نے میرا نام اس لئے دیا ہے کہ میں پیپلزپارٹی کے لئے قابل قبول ہوسکتا ہوں،امید ہے آصف زرداری اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے، آصف زرداری سے ملاقات کروں گا،کوشش ہوگی کہ اپوزیشن کا ایک امیدوار ہو،وزیر اعظم کیلئے پیپلزپارٹی کے ووٹ نہ کرنے پر عمران خان 4 ووٹوں سے وزیر اعظم بن گئے، کوشش ہوگی پیپلزپارٹی کو ہم اعتماد میں لیں،اپوزیشن کاایک امیدوار ہو، میرے امیدواربننے کے بعدپیپلزپارٹی کواپنے فیصلے پرنظرثانی کرنی چاہیے،میں زرداری صاحب کے پاس 100 فیصد کامیابی کی امید لے کر جاں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…