بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

تبدیلی کے نعرے کی دھجیاں اُڑ گئیں، بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کا حکم ماننے سے انکار پر ڈی پی او کی معطلی، ملک بھر میں شدید اشتعال پھیل گیا

datetime 27  اگست‬‮  2018 |

پاکپتن (نیوز ڈیسک) 23 اگست کو خاور مانیکا کی گاڑی کو روکا گیا لیکن وہ نہ رکے جس کی وجہ سے ان کی کار کو زبردستی روکا گیا اس موقع پر خاور مانیکا نے غلیظ زبان کا استعمال کیا، اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آر پی او اور ڈی پی او کو جمعہ کو طلب کر لیا

اور معاملہ ختم کرنے کی ہدایات کیں مگر ڈی پی او رضوان گوندل نے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور اپنے موقف میں کہا کہ پولیس کا کوئی قصور نہیں، میں معافی نہیں مانگ سکتا، اپنے اس موقف سے ڈی پی او رضوان گوندل نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھی آگاہ کر دیا جس پر انہیں ڈی پی او کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پنجاب کی حکومت کو سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا، ایک صارف خالد فاروق نے کہا کہ یہ فیصلہ عمران خان کے ویژن کے خلاف جاتا ہے امید ہے وہ اس پر نوٹس لیں گے۔ ایک اور صارف انس ٹیپو نے کہا کہ خاتون اول کے سابق شوہر خاور مانیکا کو پولیس نے چیک پوسٹ پر روکا مگر وہ نہیں رکے، پولیس نے انہیں زبردستی روکا، جس پر ڈی پی او کا تبادلہ کردیا گیا، انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر تبدیلی آئی رے کا نغمہ چلانا چاہیے۔ ایک اور صارف نے کہا کہ ڈی پی او کا معطلی کے بعد خاور مانیکا سے معافی نہ مانگنے کا فیصلہ بہترین ہے۔ایک اور صارف حیدر علی نے کہا کہ مجھے خاور مانیکا سے عالم داد لالکا یاد آتے ہیں۔جنھوں نے ڈی پی او بہاولنگر شارق کمال صدیقی کا تبادلہ کیا تھا،آخر ن لیگ اور تحریک انصاف میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ اسی طرح بہت سارے سوشل میڈیا صارف اپنے خیالات کے ذریعے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…