جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

میرے پاکستان جانے پر اتنا طوفان کیوں؟بھارتی سفیر کی جانب سے عمران کو بھارتی کرکٹرز کا دستخط شدہ ’بلا‘ تحفے میںدینےپر پھربھارتی ہائی کمیشن بھی بند کردینا چاہئے؟سدھو نے انتہا پسند ہندوئوں کو کرارا جواب دیدیا

datetime 21  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی (نیوز ڈیسک)سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاج اور غداری کے مقدمے کی درخواست دائر ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان امن کیلئے ڈٹ گئے۔نوجوت سنگھ سدھو کا عمران خان کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنا اس وقت بھارت کی سیاست میں ہاٹ ایشو بن چکا ہے۔

انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے بھارت بھر میں سدھو کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیاٗ ریاست بہار میں ان پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے تاہم سدھو نے اس ساری تنقید کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔نوجوت سندھ نے اپنے خلاف ہونے والے پراپیگنڈے کے خلاف پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے دی جانے والی محبت کو سرمایہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریب میں پہلی قطار میں بیٹھا تھا کہ مجھے دیکھ کر پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ میرے پاس آئے اور گرمجوشی سے ملے، دو بار کہا کہ شاباش بہادر انسان ہو۔سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے ان سے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں اور بابا گرونانک کے 550 جنم دن پر کرتار پورہ کا راستہ کھول دیں گے۔نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 2 دن میں جو محبت پاکستان اور پاکستانیوں نے دی ہے، وہ میرے لیے فخر اور سرمایہ ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے لیے امید بھی پیدا ہوچلی ہے۔انہوںنے کہا کہ میں جذبہ خیر سگالی کے تحت پاکستان گیا تھا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے ایسے پیغامات دیئے جاتے ہیں، اگر ایسا نہیں ہے تو بھارتی سفیر کی جانب سے کرکٹرز کا دستخط شدہ ’بلا‘ تحفے میں دیا گیا تو ہائی کمیشن بھی بند کردینا چاہئے؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واجپائی اور نریندر مودی بھی پاکستان کا دورہ کرتے رہے ہیں تو کیا ان کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا جائیگا؟ اس سب کے باوجود مجھ پر ہی تنقید کیوں کی جارہی ہے؟ ۔نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ بھارتی حکومت کی اجازت سے ہی تقریب میں شریک ہوا ہوں جس کیلئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے ہی فون کرکے کہا تھا ٗ پاکستان میں تقریب میں شرکت کا

کہہ کر نہ جانا اچھا عمل نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن کے لیے مذاکرات ہی حل ہیں اور تمام مسائل کا حل مذاکرات میں ہی ہے، ہمیں دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو نہیں مانتا بلکہ اپنی پارٹی قیادت کو جواب دہ ہوں اور پارٹی کی قیادت میرے ساتھ کھڑی ہے، بڑے ہندوستان میں چھوٹے چھوٹے دل ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے ایسا نہیں ہوگا۔

سدھو نے پریس کانفرنس کے آخر میں پاکستان کی مہمان نوازی شاعرانہ انداز میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے پیار سے مرشد میرے کا نام لیا ٗکسی نے پیار سے رہبر میرے کا نام لیا ٗکسی نے پیار سے نانک گرو کا نام لیا، تو میرے دل سے جو امڈا تھا احترام و ادب وہ چشمہ بن کر میری آتما سے پھوٹ پڑا، یہی تھی میری خطا، اب جو چاہو دے دو سزا۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…