جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسے کسی کو مجرم کہہ سکتا ہے، ہر بندے کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، چیف جسٹس کا نیب پر اظہار برہمی، چیئرمین نیب کو طلب کر لیا

datetime 20  اگست‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(مانیٹرنگ  ڈیسک)نیب انکوائریوں میں نامزد افراد کے نام پر میڈیا پر آنے کے معاملے کی سماعت، پگڑیاں اچھالنا نیب کا حق نہیں، ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں، چیف جسٹس نے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری

میں نیب میں انکوائری کیسز میں نامزد افراد کے نام میڈیا پر آنے کے معاملے کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت میں جرم ثابت ہوئے بغیر نیب کیسےکسی کو مجرم کہہ سکتا ہے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا نیب کا کوئی حق نہیں، ہر آدمی کو چور سمجھ کر پگڑیاں نہ اچھالی جائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی انکوائری میں بےگناہ ثابت ہوجاتا ہے تو اس کی معاشرے میں کیا عزت رہ جائے گی، کیا نیب چاہتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ کار خوف سے بھاگ جائے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نوٹس بعد میں ملتا ہے اور ٹی وی پر ٹکرز پہلے چلنا شروع ہوجاتے ہیں، نیب میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جس پر کمرہ عدالت میں موجود پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر نے کہا کہ نیب میں بھی خود احتسابی کا عمل جاری ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ کسی کی طلبی کا معاملہ تو خفیہ ہونا چاہیے اور کسی تفتیشی کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے کا پتہ چلے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔جسٹس میاں ثاقب ںثار نے کہا کہ جتنی معلومات چیف جسٹس کے پاس ہیں شاید کسی اور ادارے کے پاس نہیں، پہلے نیب کی عدلیہ میں کوئی عزت نہیں تھی لیکن اب نیب کی عدالتوں میں بھی عزت ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے بندےکو نوکری نہیں ملی تو پرائیویٹ بندہ بلا کر بےعزت کررہے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو پیر کو اپنے چیمبر میں طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…