اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

رائے ونڈ لاہور روٹ پر چلنے والی بس سروس بند کردی گئی، مسافروں کا شدید احتجاج

datetime 14  اگست‬‮  2018 |

رائے ونڈ (این این آئی ) رائے ونڈ لاہور روٹ پر چلنے والی ایل ٹی سی کی بسیں بند ہونے سے مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ۔شدید گرمی میں ویگنوں میں مسافروں کی اوورلوڈنگ اور اوورچارجنگ کی شکایات عام ۔پولیس کی بھتہ خوری سے آنکھیں بند،سرکاری کرایہ نامہ مذاق بن گیا۔ سی این جی گاڑیوں کا کرایہ ڈیزل گاڑیوں کے مطابق وصول کیا جارہا ہے ۔مسافروں کا شدید احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق رائے ونڈ ، لاہور روٹ پر گزشتہ کئی ماہ سے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی اے سی بسیں بند ہونے سے

مقامی ہزاروں مسافروں کو روزانہ سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تبلیغی جماعت کی سینکڑوں جماعتوں کو روزانہ دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے سی این جی کی بحالی کے بعد مقامی ٹرانسپورٹروں نے اپنی گاڑیوں کو دوبارہ سی این جی پر منتقل کروالیا ہے جس سے کرائے نامے میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کردیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ،شیخوپورہ ،قصور ،چونیاں ،پتوکی ،گوجرانوالا سمیت دیگر روٹوں پر چلنے والی ہائی ایس،مزدا مالکان نے مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لئے اپنی گاڑیوں کو دوبارہ ڈیزل کی بجائے سی این جی پر منتقل کرلیا ہے جس سے ڈیزل کی بجائے سی این جی کی مد میں مالکان کو آٹھ گنازیادہ منافع حاصل ہورہا ہے ذرائع کے مطابق آر ٹی سیکرٹری کی جانب سے کرایہ نامہ ڈیزل کی قیمتوں کے مطابق جاری کیا جاتا ہے ٹرانسپورٹر حضرات مسافروں کو دھوکہ دے کر ان سے ڈیزل نرخوں کا کرایہ وصول کررہے ہیں مسافرسی این جی گاڑیوں کی تعداد اس وقت ہزاروں میں ہوچکی ہے جس سے ٹرانسپوٹرحکام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غریب مسافروں پر نئے کرایوں کا عذاب مسلط کردیتے ہیں ذرائع کے مطابق ڈیزل گاڑی کا ایک پھیرا اگر گاڑی مالکان کو تین ہزار روپے میں پڑتا ہے تو سی این جی گاڑی وہی پھیرا تین سے چار سو تک پڑتا ہے مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے ذرائع کے مطابق ڈیز ل گاڑی کو سی این جی میں منتقل کرنا غیر قانونی اور جان لیوا عمل ہے جس سے کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ٹرانسپوٹروں کے اس اقدام سے جہاں مسافروں سے اوور چارجنگ کی شکایات عام ہیں وہاں گیس بندش کے ایام کو مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے آرٹی سیکرٹری سی این جی گاڑیوں کا نیا کرایہ نامہ جاری کریں تاکہ مسافروں کو رعایتی سفر کی سہولت میسر آسکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…