بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

دسمبر2017 سے روپے کی قدر مسلسل کم کی جا رہی ہے ،ڈالر کی اڑان نہ رکی تو ملک مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب جائے گا،انتہائی سنگین پیش گوئی کردی گئی

datetime 22  جولائی  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)فیڈریشن آف پا کستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی(ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر کریم عزیز ملک نے کہا ہے کہ حکومت اور مرکزی بینک ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ کو روکنے کیلئے فوری اور نتیجہ خیز اقدامات کریں ورنہ مہنگائی کا سونامی سارے ملک کو ڈبو دے گا۔روپے کی قدر میں چوتھی کمی کے بعد سے درامد کنندگان کو بھاری نقصانات ہوئے ہیں جبکہ سمندری راستے سے بہت سے درامدات ابھی ملک تک نہیں پہنچیں

جن کے ملکی بندرگاہوں تک پہنچتے ہی ملک بھر میں مہنگائی کا خطرناک لہر آئے گی جس سے پاکستان کی تمام آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔ کریم عزیز ملک نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ دسمبر2017 سے روپے کی قدر مسلسل کم کی جا رہی ہے جسے روکنے کی ضرورت ہے۔ روپے کی قدر کم کرنے سے جس سے برامدات میں2.7 ارب ڈالر کامعمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ضروری اشیاء اور خام مال کے درامدی بل میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ ہو اورغیر ملکی قرضوں میں کھربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے۔روپے کی بے قدری سے درامدات بھی مہنگی ہو گئی ہیں جو برامدات سے دگنے سے بھی زیادہ ہیں۔ روپے کے زوال سے ملک میں افراط زر بڑھ گیا ہے جس سے عام آدمی متاثر ہوا ہے۔ اس سے غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گا جس سے مسائل جنم لینگے۔انھوں نے کہا کہ تیل، ایل این جی اور خوردنی تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں معیشت کے چند شعبے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں جن میں تعمیرات کا شعبہ شامل ہے جس سے درجنوں زیلی صنعتوں اور لاکھوں افراد کا مستقبل وابستہ ہے۔ روپے کے زوال سے سیمنٹ،سٹیل ، المونیم، شیشہ، رنگ و روغن اور

دیگر تمام اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے جس سے تعمیراتی سرگرمیاں ماند پڑرہی ہیں جس سے جی ڈی پی بھی متاثر ہو گا۔انھوں نے کہا کہ روپے کی بے قدری کا سارا ملبہ عوام پر نہ ڈالا جائے، بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے جبکہ بینکوں کا سود اور سیلز ٹیکس کم کیا جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…