اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں احتساب عدالت نے شریف خاندان کے لندن میں موجود ایون فیلڈ فلیٹس بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حکومت پاکستان کیا عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کرا سکتی ہے اس حوالے سے نجی ٹی وی پروگرام میں مؤقر قومی اخبار کے لندن میں بیورو چیف وجاہت علی خان کا کہنا تھا کہ لندن میں نواز شریف خاندان کے فلیٹس کی ترقی کے بارے میں پاکستانی عدالت کے کسی فیصلے پر عملدرآمد ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومتوں کے معاملات ہیں ،
پاکستانی عدلیہ کے کسی فیصلے کی برطانیہ میں کوئی اہمیت نہیں۔ اگر اس طرح سے جائیدادیں قرق ہونے لگیں تو آدھے سے زیادہ برطانیہ خالی ہو جائے گا کیونکہ انگلینڈ میں روس، بھارت اور دیگر ممالک کے لوگوں کی ایسی بہت سے جائیدادیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بھی اس قسم کا فیصلہ کر کے برطانیہ سے عملدرآمد کیلئے کہے تو ایسا ممکن نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے ہم الطاف حسین کا معاملہ دیکھ چکے ہیں۔ ان پر قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات تھے مگر ان کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔



















































