اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ماہر قانون دان سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں سوالات اور جوابات کو دیکھنا ہو گا کہ نیب نے نواز شریف کے بچوں کو بے نامی دار اور مریم نواز کو کیسے شامل جرم قرار دیا لیکن اب نواز شریف کو خود آ کر فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں درج کرنی چاہئے ۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سپریم کورٹ میں نااہلی کیس کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کے بچوں کو بے نامی دار ثابت کرنے کے لئے نیب کو ثابت کرنا بہت ضروری ہو گیا تھا کہ بچوں نے اپنے والد کے پیسوں سے اثاثوں کو بنایا ہے جو کہ کرپشن کے پیسوں کے ذریعے کمائے گئے تھے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو خود آ کر اپیل دائر کرنی چاہئے یہ انکے لئے بہتر ہو گا ۔ معروف ماہر قانون دان سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں کئی سوالات کے جوابات دیکھنے ہوں گے اور یہ نہایت دلچسپ ہو گا کہ نیب نے نوازشریف کے بچوں کو بے نامی دار اور مریم نواز کو کیسے شامل جرم قرار دیا ۔ ایک سوال کے جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ حسن نواز اور حسین نواز کا دفاع اپنے دادا سے منسلک تھا اور پھر جو ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرائی گئی اس کے مطابق مریم نواز اپنے بھائی کی طرف بیڈ شیئرز کو ہولڈ کرے گی لیکن یہ ٹرسٹ ڈیڈ اس وقت تین ماہ بعد ختم ہو گئی تھی کیونکہ رجسٹر شیئرز جاری کر دیئے گئے تھے اس ٹرسٹ ڈیڈ کو غلط بھی قرار دیا جائے تو تب بھی وہ کیسے نواز شریف کے کسی جرم کو چھپانے کا باعث بن سکتی ہے انہوں نے کہا کہ کیپٹن(ر) صفدر کی سزا میں دلچسپ بات یہ ہے کہ صفدر کا تمام معاملے سے تعلق صرف اتنا ہے کہ وہ ٹرسٹ ڈیڈ پر گواہ ہیں حالانکہ ریفرنس دائر ہونے تک مزید تحقیقات ہو سکتی تھیں لیکن نیب نے جے آئی ٹی کے فراہم کردہ مواد کو کافی سمجھتے ہوئے اسی بنیاد پر ریفرنس تیار کیا اب شریف فیملی دس دن میں فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتی ہے ۔



















































