اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قید بامشقت کیا ہے،مفت کی روٹی نہیںملے گی، کام کرنا پڑیگا، باپ بیٹی کو جیل میں کیا ، کیا پاپڑ بیلنے پڑیں گے، محلات سے حوالات تک اور حکومت سے مشقت تک ، نواز شریف اور مریم نواز کو قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز احتساب عدالت نے پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز
اور داماد کیپٹن صفدر کو بالترتیب11، 8، اور ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے جبکہ نواز شریف پر 8ملین پائونڈ اور مریم نواز پر 2ملین پائونڈ جرمانہ کیا گیا ہے ۔ قید بامشقت کیا ہے ؟اس حوالے سے نجی ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور انکے شوہر کیپٹن صفدر کو قید بامشقت کی سزا سنائی گئی جس میں یہ تینوں جیل میں آرام سے نہیں بیٹھ سکیں گے بلکہ انہیں وہاں کام کرنا پڑے گا۔ قید بامشقت میں قیدی کو جیل کے اندر روز مرہ کے امور نمٹانے ہوتے ہیں ۔ جیل میں قیدیوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔ جیل کے اندر محنت مزدوری بھی کروائی جاتی ہے جن میں تعمیرات، کھانا پکانے سمیت مختلف امور کی انجام دہی شامل ہے۔ اس میں جیل انتظامیہ دیکھتی ہے کہ قیدی اگر کوئی صلاحیت رکھتا ہے یا کسی کام میں ماہر ہے تو اسے وہی کام دیاجاتا ہے یا کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے قیدیوں کی ڈیوٹیاں لگا دی جاتی ہیں۔ جبکہ جیل سے رہا ہونے پران کو کچھ رقم بھی دی جاتی ہے جو کہ جیل کے اندر کی گئی یومیہ مزدوری کی اجرت ہوتی ہےجو کہ جیل انتظامیہ جمع کرتی رہتی ہے۔ جیل میں ہر قیدی سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ ان قیدیوں سے مزدوری اور دیگر کام کروائے جاتے ہیں جن کو قید بامشقت کی سزا عدالت نے دی ہو۔ جیل میں تعمیرات، صفائیاں اور مینٹی نینس کے کاموں میں انہی قید بامشقت کے قیدیوں سے کام لیا جاتا ہے جبکہ کئی بار قیدیوں کو جیل میں پتھر بھی تڑوائے جاتے ہیں جبکہ گندم کو آٹے بنانے کیلئے قیدیوں سے چکی بھی پسوائی جاتی ہے۔



















































