اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کو بھاری قرضوں سے نجات دلانے کیلئے اس چیز کی نیلامی کردی جائے ،خط لکھ کر چیف جسٹس کو اہم تجویز پیش

datetime 30  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان ہندوکونسل کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے ملک کو بھاری قرضوں سے نجات دلانے کیلئے متروکہ وقف املاک کی جائیداد کی شفاف نیلامی کی تجویز پیش کردی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کے نام اپنے کھلے خط میں ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہندو برادری کی جائیداد کی رکھوالی محکمہ اوقاف کے سپرد ہے۔

اعلیٰ عدلیہ محکمہ اوقاف کو پابند کرے کہ وہ متروکہ وقف املاک کے تحت جتنی بھی جائیداد ہے، اسکی تفصیلات جاری کرے، شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے لسٹ ویب سائیٹ اور میڈیا کو جاری کی جائے، انہوں نے کہا کہ محکمہ اوقاف کی موجودہ تمام لیز کو منسوخ کرکے ہندو چیئرمین کی نگرانی میں اوپن نیلامی کا طریقہ کار اختیار کیا جائے، پہلی ترجیح اسکو دی جائے جس کے پاس پہلے سے متروکہ وقف لیز پر تھی بشرطیکہ وہ سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے مساوی رقم فراہم کرے۔ ہندوکمیونٹی کی جائیداد کی فروخت یا لیز جو بھی طریقہ کار اپنایا جائے،مارکیٹ ریٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے شفافیت یقینی بنائی جائے۔ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے چیف جسٹس کے نام خط میں کہا کہ ہر حکومت اپنے نام نہاد منصوبوں کی تشہیری مہم پر کروڑوں خرچ کرلیتی ہے لیکن قرضے ختم کرنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی کا تعین کرنے سے قاصر نظر آتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ لیاقت نہرو سمجھوتے میں اتفاق کیا گیا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں کی چھوڑی جائیداد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھارتی مسلمان کو سونپی جائے گی اور پاکستان میں ہندوؤں کی جائیداد کی رکھوالی پاکستانی ہندو شہری کے سپرد ہونی چاہیے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت کے برعکس پاکستان میں آج تک کسی ہندو کو محکمہ اوقاف کا سربراہ نہیں لگایا جاسکا، اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات حکومت کی طرف سے عملی نفاذ کے منتظر ہیں۔ ڈاکٹر رمیش وانکوانی کا مزید کہنا تھا کہ ہندو چیئرمین کی عدم موجودگی میں کروڑوں مالیت کی اوقاف کی جائیدادفلاحی منصوبوں کی بجائے کوڑیوں کے مول اپنے چہیتوں کو دی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر رمیش وانکوانی نے اپنے خط میں پیشکش کی کہ اوقاف کی جائیداد سے حاصل ہونے والی رقم کا پچاس فیصد ہندو کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور باقی پچاس فیصد پاکستان کے ذمے بیرونی قرضے اتارنے کیلئے استعمال کیا جائے، انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اوقاف کی جائیداد کے ذریعے پاکستان کے ذمہ تمام بھاری قرضے اتارنے کیلئے رقم تین سے بارہ ماہ کے اندر حاصل کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…