اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

پی ایس او پیٹرول پمپوں پر لائٹس لگانے کے نام پر کرپٹ افسران نے کروڑوں لوٹ لئے،کرپٹ افسران کرپشن کا مال ہضم کرکے ادارہ سے رخصت 

datetime 30  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  پی ایس او کے کرپٹ افسران نے پی ایس او کے پیٹرول پمپوں پر ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب کے نام پر کروڑوں روپے لوٹ لئے وزارت پیٹرولیم خاموش تماشائی بن گئی۔ پی ایس او انتظامیہ نے ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر ایل ای ڈی لائٹس لگانے کا ٹھیکہ اوسلو نامی کمپنی کو قواعد کے برعکس دیا اور فوری طور پر 2 کروڑ 45 لاکھ روپے بھی جاری کردیے

تاہم قومی فنڈز سے کروڑوں روپے فراہم کرنے کے فوری بعداوسلو کو دیا گیا ٹھیکہ بھی منسوخ کردیا پی ایس او کے پرٹ افسران نے نجی کمپنی کے ساتھ مل کر کروڑوں روپے لائٹس کے نام پر لوٹ لئے جبکہ ایک لائٹ بھی پیٹرول پمپس پر نہ لگائی جاسکی۔ جس کے نتیجہ میں قومی خزانہ کو کروڑوں روپے سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ نجی کمپنی کو دیئے گئے کروڑوں روپے ابھی تک واپس نہیں لئے گئے تاہم پی ایس او کے کرپٹ افسران نے نجی کمپنی سے ملی بھگت کرکے کمپنی کو عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کی مدد کی جس کے بعد اب یہ عدالتی موشگافیوں میں لٹکا ہوا ہے۔ لائتس کے نام پر کرپشن کا سکینڈل جب منظر عام پر آیا تو اعلیٰ حکام نے تحقیقات کے لئے تین رکنی کمپنی بنا دی جو فنانشل آفیسر ڈی ایف اے اور سیکشن آفیسر فنانس پر مشتمل تھی جبکہ یہ کمپنی بھی بعد میں کرپشن کی دلدل میں پھنس کر قومی دولت دولٹنے والوں کی نشاندہی نہ کر سکی جس کی بدولت لائٹس کے نام پر لوٹی گئی قومی دولت واپس نہیں ہوسکی جبکہ پی ایس او کے کرپٹ افسران قومی دولت لوٹ کر گھر کو چلتے بنے ہیں بعض کرپٹ افراد ریٹائرڈ ہوگئے جبکہ بعض افسران کرپشن کی کمائی ہضم کرنے کے بعد رحلت فرما چکے ہیں تاہم تین رکنی کمیٹی تحقیقات میں مصروف ہے۔ پی ایس او انتظامیہ نے ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر ایل ای ڈی لائٹس لگانے کا ٹھیکہ اوسلو نامی کمپنی کو قواعد کے برعکس دیا اور فوری طور پر 2 کروڑ 45 لاکھ روپے بھی جاری کردیے تاہم قومی فنڈز سے کروڑوں روپے فراہم کرنے کے فوری بعداوسلو کو دیا گیا ٹھیکہ بھی منسوخ کردیا

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…