بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان کا کیا ہونیوالا ہے؟جاوید چوہدری کا ایسا کالم جو آپ کو بھی ہلا کر رکھ دےگا

datetime 29  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی، سینئر تجزیہ کار و کالم نگار جاوید چوہدری اپنے تازہ کالم میں لکھتے ہیں کہآج حالات ایک بار پھر میاں نواز شریف کو 2008ءپر لے گئے ہیں‘پانامہ کیس آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے‘ میاںنواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر سزا سے بچتے نظر نہیں آ رہے‘پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے‘ دونوں بھائیوں کی فلاسفی کا اختلاف بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے‘

ملک میں خواہ شاہد خاقان عباسی کو این اے 57 سے تاحیات نااہل قرار دے دیا جائے‘ پارٹی راجہ قمر الاسلام کو چودھری نثار کے خلاف ٹکٹ دے اور نیب خواہ انہیں 24 گھنٹے میں گرفتار کر لے اور خواہ دانیال عزیز نااہل ہو جائیں‘ پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف کرانچی اور پان پر قہقہے لگاتے ہیں یا پھر گائیکی میں احمد رشدی کا مقابلہ کرتے ہیں‘یہ اپنے لوگوں کو ”ڈیفنڈ“ نہیں کرتے‘کل اگر احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق‘ حنیف عباسی اور طلال چودھری بھی دانیال عزیز کی طرح میدان سے باہر ہوجاتے ہیں تو میاں شہبا زشریف اس پر بھی احتجاج نہیں کریں گے‘ یہ محمد رفیع کی آواز میں ”بابل کی دعائیں لیتی جا“ سنا کر آگے چل پڑیں گے‘ عوام یہ بھی دیکھ رہے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی لانڈری میں بڑا سے بڑا گندہ لوٹا بھی دھل جاتا ہے لیکن 1979ءکے مکان کو بنیاد بنا کرشاہد خاقان عباسی کو حلقے کےلئے تاحیات نااہل قرار دے دیا جاتا ہے‘پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی نااہلی کی لائن لگ جاتی ہے لیکن عمران خان پاک پتن شریف کی برکت سے پانچوں حلقوں کےلئے اہل ہو جاتے ہیں‘ میاں مصباح الرحمن تگڑی رشتے داری کے باوجود نگران وزیر بن جاتے ہیں لیکن جنرل ناصر جنجوعہ نواز شریف سے ہمدردی کی وجہ سے مشیر کے عہدے سے بھی فارغ ہو جاتے ہیں‘ پورے پنجاب کی بیورو کریسی ”ری شفل“ ہو جاتی ہے لیکن راولپنڈی میںچودھری نثار کے

تعینات کردہ افسر اپنی سیٹوں پر بیٹھے رہتے ہیں‘شیخ رشید صادق اور امین ہو جاتے ہیں لیکن حنیف عباسی سر پر لٹکتی تلوار دیکھ دیکھ کر زندگی گزارتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے تازہ لوٹے سڑکوں پر نکلتے ہیں‘ ان پر پھولوں کی پتیاں برسائی جاتی ہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر حلقے میں جاتے ہیں ‘ محب وطن شہری ان کا راستہ روکتے ہیں اور

ویڈیو چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے‘ یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیوں ہو رہا ہے؟ ہم اس سوال کی طرف نہیں جاتے‘ یہ ملک ابھی جنگل سے اتنا باہر نہیں آیا کہ ایسے سوالوں کا جواب تلاش کیا جا سکے یا ان کا برملا اظہار ہو سکے تاہم یہ طے ہے یہ صورتحال ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی‘ہماری معیشت ایک سال میں زمین پر آ چکی ہے‘ سرکاری اداروں اور بیورو کریسی کو کام چھوڑے

ڈیڑھ سال ہو چکا ہے‘ پنجاب میں جس جس سیکٹر میں کام ہوا تھا وہ تمام لوگ اس وقت مقدمے اور انکوائریاں بھگت رہے ہیں‘ پانی کا مسئلہ گھمبیر ہو چکا ہے‘ بجلی پوری ہوتی ہے تو لائنیں ٹرپ کر جاتی ہیں اور لائنیں ٹرپ کر جائیں تو عملہ انکوائری کے خوف سے گرڈ سٹیشنوں سے بھاگ جاتا ہے‘ سفارت خانوں میں کام ٹھپ ہے‘ ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ تک پہنچ گیا ہے‘

چیف جسٹس سیشن جج کو عدالت میں موبائل فون استعمال کرنے پر ڈانٹتے ہیں تو وہ استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے‘ پی آئی اے کے جہاز اُڑ جائیں تو اُڑ جائیں نہ اُڑیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں‘ پٹرول کی قیمت میں ایک ماہ میں پانچ فیصد اضافہ ہو گیا‘ سی ڈی اے کا کہنا ہے ہم اگر شہر کو پورا پانی دے دیں تو پندرہ دن میں پانی کا ذخیرہ صفر ہو جائے گا اور روپے کی قدر گرنے سے

سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے سوا کھرب روپے ڈوب چکے ہیں‘ یہ اپنا سرمایہ سمیٹ کر بھاگ رہے ہیں‘یہ صورتحال آخر کب تک چلے گی‘ یہ کمزور ملک یہ سختی‘ یہ بے ترتیبی آخر کتنی دیر برداشت کرلے گا؟ ہمیں کالا باغ ڈیم چاہیے‘ یہ ملک کی ضرورت ہے لیکن کیا سپریم کورٹ یہ ڈیم بنا سکے گی‘ یہ سیاسی ایشو ہے‘ یہ ایشو جب تک سیاستدان حل نہیں کریں گے ہم خواہ عالمی عدالت کا فیصلہ لے آئیں کالا باغ کالا ہی رہے گا‘ یہ ڈیم میں تبدیل نہیں ہو سکے گا‘ ہمیں بہرحال ہوش کے ناخن لینا ہوں گے‘ ہم یہ ناخن جتنی جلدی لے لیں ہمارے لئے اتنا ہی اچھا ہو گا‘



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…