منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ اپنا قانون خود نہیں چن سکتی ،دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا ٗمعروف قانون دان عرفان قادر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا ہے کہ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا۔دانیال عزیز نااہلی کیس کے فیصلے پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کا کسی کو پتا ہی نہیں ہے

کیونکہ میڈیا میں اس کے قانونی پہلوؤں کو کبھی زیر غور لایا ہی نہیں گیا۔ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزادی گئی ہے وہ موجود ہی نہیں ہے۔ انہیں2003 کے آرڈیننس کے تحت سزا دی گئی ہے تاہم اس قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے کا آخری قانون 2012 میں آیا تھا لیکن افتخار چوہدری نے اسے ختم کردیا تھا اگر 2012 کا قانون ختم بھی کردیں تو بھی 2003 کا قانون بحال نہیں ہوسکتا۔عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی قانون چننا شروع کردئیے ہیں سپریم کورٹ اپنا قانون خود نہیں چن سکتی کیونکہ قانون وہی ہے جو پارلیمنٹ دیگی ٗ اگر قانون بھی اپنی مرضی کے اٹھانے شروع کردیے تو اگلے پانچ سال بھی سپریم کورٹ کی ہی حکومت ہوگی ۔ گزشتہ دس سال کے دوران انتظامیہ کے معاملات میں جس طرح مداخلت کی گئی ہے وہ درحقیقت سپریم کورٹ کے ججز کی ڈیفیکٹو حکومت رہی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا ہے کہ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا۔دانیال عزیز نااہلی کیس کے فیصلے پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کا کسی کو پتا ہی نہیں ہے کیونکہ میڈیا میں اس کے قانونی پہلوؤں کو کبھی زیر غور لایا ہی نہیں گیا۔ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزادی گئی ہے وہ موجود ہی نہیں ہے۔ انہیں2003 کے آرڈیننس کے تحت سزا دی گئی ہے تاہم اس قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…