پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ اپنا قانون خود نہیں چن سکتی ،دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا ٗمعروف قانون دان عرفان قادر کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا ہے کہ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا۔دانیال عزیز نااہلی کیس کے فیصلے پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کا کسی کو پتا ہی نہیں ہے

کیونکہ میڈیا میں اس کے قانونی پہلوؤں کو کبھی زیر غور لایا ہی نہیں گیا۔ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزادی گئی ہے وہ موجود ہی نہیں ہے۔ انہیں2003 کے آرڈیننس کے تحت سزا دی گئی ہے تاہم اس قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔ اس سلسلے کا آخری قانون 2012 میں آیا تھا لیکن افتخار چوہدری نے اسے ختم کردیا تھا اگر 2012 کا قانون ختم بھی کردیں تو بھی 2003 کا قانون بحال نہیں ہوسکتا۔عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود ہی قانون چننا شروع کردئیے ہیں سپریم کورٹ اپنا قانون خود نہیں چن سکتی کیونکہ قانون وہی ہے جو پارلیمنٹ دیگی ٗ اگر قانون بھی اپنی مرضی کے اٹھانے شروع کردیے تو اگلے پانچ سال بھی سپریم کورٹ کی ہی حکومت ہوگی ۔ گزشتہ دس سال کے دوران انتظامیہ کے معاملات میں جس طرح مداخلت کی گئی ہے وہ درحقیقت سپریم کورٹ کے ججز کی ڈیفیکٹو حکومت رہی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا ہے کہ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے وہ بہت پہلے ختم ہوگیا تھا۔دانیال عزیز نااہلی کیس کے فیصلے پر اپنا تجزیہ دیتے ہوئے عرفان قادر نے کہا کہ یہ ایسا فیصلہ ہے جس کا کسی کو پتا ہی نہیں ہے کیونکہ میڈیا میں اس کے قانونی پہلوؤں کو کبھی زیر غور لایا ہی نہیں گیا۔ دانیال عزیز کو جس قانون کے تحت سزادی گئی ہے وہ موجود ہی نہیں ہے۔ انہیں2003 کے آرڈیننس کے تحت سزا دی گئی ہے تاہم اس قانون کو ختم کردیا گیا تھا۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…