جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے خالی ہوتے خزانے میں اچانک حیرت انگیز طور پر اربوں روپے جمع ہونگے لگے،بگڑتی معاشی صورتحال میں بہتری یہ دھن کون جمع کروا رہا ہے ؟جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت 30 ارب روپے موصول ہوگئے،15 ہزار افراد اپنے اثاثے ظاہر کرچکے، ان میں زیادہ تعداد اندرون ملک پاکستانیوں کی ہے، اندرون ملک سے تقریبا 10 ہزار سے زائد افراد جب کہ بیرون ملک سے 4 ہزار 913 افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کیے ۔ایف بی آر کے مطابق تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق

گزشتہ رات تک 15 ہزار افراد اپنے اثاثے ظاہر کرچکے ہیں۔ جن میں زیادہ تعداد اندرون ملک پاکستانیوں کی ہے۔ اندرون ملک سے تقریبا 10 ہزار سے زائد افراد نے اپنے اثاثے ظاہر کیے جب کہ بیرون ملک سے 4 ہزار 913 افراد نے اپنے اثاثے ایف بی آر کو بتا دیے۔ ایمنسٹی اسکیم کے تحت ایف بی آر کو ٹیکس کی مد میں 30 ارب روپے موصول ہوئے جب کہ مختلف افراد کی طرف سے 60 ارب روپے کے ٹیکس کے لیے چالان بھی بھر دیے گئے ہیں اور یہ رقم ایک دو روز میں ایف بی آر کو مل جائے گی۔ ملکی تاریخ میں کسی ایمنسٹی اسکیم سے اتنی بڑی رقم حاصل نہیں ہوئی۔ایف بی آر نے اپریل میں ایمنسٹی اسکیم کے تحت 3 سے 4 ارب ڈالر ٹیکس وصولی کا دعوی کیا تھا جو پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ بڑی تعداد میں کالا دھن یا اثاثے ظاہر کرنے کی وجہ پاکستان کا آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ(او ای سی ڈی)کا ممبر بننا ہے ایمنسٹی اسکیم کے تحت ایف بی آر کو ٹیکس کی مد میں 30 ارب روپے موصول ہوئے جب کہ مختلف افراد کی طرف سے 60 ارب روپے کے ٹیکس کے لیے چالان بھی بھر دیے گئے ہیں اور یہ رقم ایک دو روز میں ایف بی آر کو مل جائے گی۔ ملکی تاریخ میں کسی ایمنسٹی اسکیم سے اتنی بڑی رقم حاصل نہیں ہوئی۔ایف بی آر نے اپریل میں ایمنسٹی اسکیم کے تحت 3 سے 4 ارب ڈالر ٹیکس وصولی کا دعوی کیا تھا جو پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ستمبر 2018 پاکستان اس تنظیم کا رکن بننے کے بعد تمام رکن ممالک سے پاکستانیوں کے اثاثوں کی معلومات لے سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…