جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ن لیگ چھوڑ کر آنیوالے اس سابق وزیر کو ٹکٹ کیوں دی؟ عمران خان بڑی مصیبت میں پھنس گئے، بنی گالہ میں کارکنوں نے احتجاج کی نئی مثال قائم کر دی، ایسا کام کر دیا کہ کپتان بھی ہکا بکا رہ گئے

datetime 21  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ملتان کے حلقہ این اے 154 کی کئی یونین کونسلوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے بنی گالہ پہنچ کر سکندر بوسن کی پارٹی میں شمولیت کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔ تفصیلات کے مطابق ملتان کے حلقہ این اے 154 کی کئی یونین کونسلوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے بنی گالہ

پہنچ کر سکندر بوسن کو ٹکٹ دیئے جانے کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا اور شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی ۔مظاہرین نے درجنوں بسوں اور گاڑیوں پر ملتان سے مارچ شروع کیا اور وہ دو روز قبل بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سابق وفاقی وزیر خوراک و زراعت اور مسلم لیگ ن چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رہنماء سکندر بوسن کی مذمت کیے جانے پر مشتمل نعرے درج تھے ۔ وہ موقع پرستوں کے خلاف احتجاجی نعرے بھی لگا رہے تھے کہ ایسے لوگ وفاداروں کا حق مار کر پی ٹی آئی میں گھس گئے ہیں ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی ملتان سٹی یوتھ کے صدر مہر شعیب آہیر کا کہنا تھا کہ ان مظاہرین میں اپنا پیغام پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت تک پہنچانے کے لئے چھ سو کلومیٹر کا سفر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک احمد حسین ڈہر جیسے پر عزم رہنما ء کو این اے 154 سے ٹکٹ دیا جانا چاہیے تھا سکندر بوسن کو وہاں سے ٹکٹ دینا غلط ہے ، یونین کونسلر جہانگیر آباد کے رانا جنگ شیر نے کہا کہ این اے 154 کے ووٹرز اور سپورٹرز لوٹیروں ، جہاگیرداروں اور لوٹوں کے خلاف ہیں اور وہ کسی کو چور دروازے سے پی ٹی آئی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اچھے کردار کے لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے جو ہر مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں ۔ یونین کونسل قاسم بیلا کے ملک شفیق نے کہا کہ پارٹی قیادت کو بد کردار لوگوں کے آگے دروازے بند کر دینے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسے لوگوں کو پارٹی میں شامل نہ کیا جائے اور کئی سالوں سے پارٹی کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو ٹکٹ دیئے جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…