ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نیب نے سب سے زیادہ وصولیاں فوجی جرنیلوں سے کی دوسرے نمبر پر بیوروکریسی اور تیسرے نمبر پر سیاستدان فضل الرحمن کھل کر سامنے آگئے، سول ملٹری کشیدہ تعلقات کا ذمہ دار فوج کو قرار دیدیا

datetime 12  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ خود پر ہونے والی نتقید میں اپنی کمزوری تلاش کرتا ہوں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بتائے کہ کن لوگوں سے کتنی وصولیاں کیں۔

انہوں نے کہاکہ اسمبلی میں پیش کردہ نیب کے جواب میں سب سے زیادہ وصولیاں فوجی جرنیلوں، دوسرے نمبر بیوروکریسی اور تیسرے نمبر پر سیاستدانوں کے نام آئے۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ سیاستدانوں کو اتنا بدنام کی جاتا ہے کہ جیسے پورے ملک کا پیسہ صرف سیاستدانوں نے کھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کردار کی صداقت اور صفائی کا قائل ہیں، کچھ کمزوریاں ہمارے اندر بھی ہوتی ہیں لیکن ایسی کمزوریاں دوسرے میں زیادہ ہیں، اگر ملک کو صحیح سمت پر چلانا ہے تو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی۔میڈیا کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ دنیا میں جہاں جمہوریت ہے وہاں آزاد صحافت ہے، میڈیا کی آزادی کا یہ مقصد نہیں کہ ہم مادر پدرآزادی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد خوشحال معیشت ہوتی ہے، پاکستان میں خرابیوں کے بہت سے مناظر ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق انہوںنے کہاکہ فوج ایک ادارہ ہے جو ناصرف ناگزیر بلکہ ریاست اور سرحدوں کا تحفظ کرتا ہے لیکن جھگڑا اس وقت جنم لیتا ہے جب فوج سیاست میں حصہ لے۔واضح رہے کہ آج پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے قبل بغاوت ہو چکی تھی اور سویلین حکومت کے پاس کوئی پاور نہیں تھی۔ منگل کو اسلام آباد میں آزادی اظہار رائے کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے

ہوئے پی پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ عام انتخابات سے پہلے بڑی خاموشی کے ساتھ کو (بغاوت) ہوچکا ہے ٗیہ گزشتہ تمام بغاوتوں سے مختلف ہے، سویلین حکومت کے پاس پاور نہیں تھی، وزیر اعظم کے احکامات کو ٹویٹ کے ذریعہ رد کیا گیا، خارجہ امور پر بھی ٹویٹ کی گئی، کچھ بڑے چینلز کو آف ائیر کیا، کچھ اخبارات کو راتوں رات ٹھیلوں سے غائب کیا گیا، سوشل میڈیا پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ڈان لیکس میں سول حکومت نے اسٹیبلشمنٹ سے کچھ معاملات پر صرف تحفظات کا اظہار ہی کیا تھا، تحفظات سے قومی سلامتی کیسے متاثر ہوگئی، سول اور ملٹری میں اتفاق رائے نہیں ہے، پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی سول اور ملٹری تعلقات میں پل کا کردار ادا کرے، سابق فوجی سربراہ کی نوے ایکڑ زمین سے متعلق ٹویٹ کی شدید مذمت کرتا ہوں، توہین عدالت اور

سائبر کرائم ایکٹ میں ترامیم ہونی چاہیے، آرٹیکل 184 تین سے متعلق پارلیمان کو قانون سازی کرنی چاہیے۔انہوںنے کہاکہ وہ ادارے جو صحافیوں پر بغیر ثبوت کے الزامات لگاتے ہیں اس معاملے پر بھرپور احتجاج کیا جانا چاہیے۔فرحت اللہ بابر نے آزاد اظہار رائے پر بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھایا جائے ٗ پارلیمنٹ ان افراد کو بھی بلائے جن پر الزامات لگائے گئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…