ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

انتخابی اصلاحات عمل درآمد کیس،یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے،چیف جسٹس

datetime 4  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ورنہ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے کاغذات نامزدگی معاملے پر الیکشن میں تاخیر کا خدشہ تھا، الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر جواب داخل کرے، الیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں، نئے اور پرانے ضابطہ اخلاق کا موازنہ کریں گے۔

پیر کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ورکرز پارٹی کی جانب سے دائر کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) الیکشن کمیشن نے عدالت عظمی کو بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر ضابطہ اخلاق بنایا۔درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ انتخابی اصلاحات پر 2012 میں فیصلہ دے چکی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے اختیارات کا تعین بھی کردیا گیا ہے۔درخواست گزار کے مطابق فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق طے کیا لیکن انہیں خدشہ ہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق میں تبدیلی کی گئی ہے۔ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کا جائزہ لیا اور نیا ضابطہ اخلاق ترتیب دیا گیا ہے۔ نیا ضابطہ اخلاق 2018 کے انتخابات کے لیے بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کو بے بس سمجھتا ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کو کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیں گے، الیکشن کمیشن بے بس ہو جائے تو اور بات ہے، کاغذات نامزدگی کے معاملے پر الیکشن میں تاخیر کا خدشہ تھا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر آج ہی جواب داخل کرے، الیکشن کے معاملات جنگی بنیادوں پر چلنے ہیں، نئے اور پرانے ضابطہ اخلاق کا موازنہ کریں گے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…