اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

کالا باغ ڈیم کیوں ضروری ہے؟چائنہ نے 87,000ہزارڈیم بنائے ،بھارت نے 3,200 ڈیم بنائے اورپاکستان نے کتنے ڈیم بنائے ؟ افسوسناک انکشافات

datetime 3  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (این این آئی) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنما عاصم رضانے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم تعمیر کئے بغیر توانائی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں، گرمی کی شدت بڑھتے ہی بار بار بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے باعث انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے ، بار بار بجلی کی ٹریپنگ کی وجہ سے بجلی سے چلنے والی انڈسٹری کی متعدد مشینری جلنے لگی ہے ،

بار بار وولٹیج کے اپ اینڈ ڈاؤن ہونے سے بھی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے ، حکومت کو چاہیے کہ بجلی کے متعلقہ محکموں کو لائنز اور وولیٹج کنڑول کرنے کی ہدایات دی جائیں ،تاکہ انڈسٹری کو بجلی کی بار بار ٹریپنگ اور وولٹیج کے اپ اینڈ ڈاؤن ہونے کے باعث پہنچنے والے نقصانات سے بچایا جا سکے۔ اپنے ایک بیان میں عاصم رضا نے کہاکہ 128 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے کالا باغ ڈیم کو 5سال کی قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا اور اس سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہونی تھی جس سے سالانہ 33 ارب 20 کروڑ روپے کی آمدنی ہونی تھی مگر سابقہ حکومتوں کی نااہلی اور ملک دشمنی کی وجہ سے اس منصوبے پر دوبارہ کام شروع نہ ہو سکا۔انہوں نے کہاکہ چائنہ نے پانی ذخیرہ کرنے کیلئے 87ہزارچھوٹے بڑے ڈیم بنائے جبکہ بھارت نے 3200 چھوٹے بڑے ڈیم بنائے اس کے مقابلے میں پاکستان نے کتنے ڈیم بنائے وہ سب کے سامنے ہیں ۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کے فروغ کیلئے پانی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی انسان کو زندہ رہنے کیلئے ہے، اسی طرح انڈسٹری کو چلانے کیلئے بھی بجلی کی ضرورت ہے ،لہذا اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم سے بڑھ کر کوئی اور آپشن ہو ہی نہیں سکتی۔ لہذا موجودہ حالات میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے ۔لہذا تمام تر مخالفتوں کو پس پشت ڈال کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے پوری قوم اور انڈسٹری کی اپیل ہے کہ کسی بھی طرح کالا باغ ڈیم کی تعمیر مکمل کروائی جائے جس پر آنے والی نسلیں بھی آپکی احسان مند رہیں گے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…