بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

میں تحریک انصاف کو اپنا گھر سمجھ کر آیا تھا لیکن میرے ساتھ پارٹی میں یہ سلوک ہو گا سوچا بھی نہ تھا، عامر لیاقت پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر شدید مشتعل، قیادت پر سنگین الزامات عائد کر دیے

datetime 3  جون‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت جو کہ کچھ عرصہ قبل ہی تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، وہ عام انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے پر مشتعل ہو گئے۔ واضح رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ میں تحریک انصاف کو اپنا گھر سمجھ کر آیا تھا لیکن جناب فردوس شمیم نقوی صاحب نے مجھے میرے ہی گھر سے ٹکٹ دینے سے انکار کردیا اور کچھ ایسی باتیں کیں جو میں عمران خان کی عزت کو سامنے رکھتے ہوئے لکھنا مناسب نہیں سمجھتا،

بہرحال میں کل تک اپنا سیاسی فیصلہ قوم کے سامنے رکھ دوں گا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ فردوس شمیم نقوی صاحب نے وہ بات کی جو سن کر علمائے کرام تک ہنس پڑے بلکہ علامہ شبیر حسن میثمی جو کہ ایم ایم اے کے مرکزی رہنما بھی ہیں، انگشت بدنداں رہ گئے۔۔۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے، مشاورت کے بعد آپ سب کو مطلع کردوں گا۔ ڈاکٹر عامر لیاقت کے اس پیغام پر سوشل میڈیا صارفین نے عامر لیاقت کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف شیر بانو نے کہا کہ آپ تحریک انصاف میں صرف ٹکٹ لینے کے لیے آئے تھے، ایک اور صارف نے کہا کہ چلو بھئی ایک اور ڈرامہ!! ایک اور ڈرامہ اور ڈھیر سارے الزامات کے لیے تیار رہیں، ایک اور صارف کامی مرزا نے کہا کہ اس صدی میں اگر کوئی ذلیل ترین شخصیت کا ایوارڈ ہوتا تو عامر لیاقت نے بلامقابلہ یہ ایوارڈ جیت لینا تھا، نہ گھر کا نہ چینل کا نہ گھاٹ کا۔ ایک اور صارف نے کہا کہ کیا آپ نے تحریک انصاف فردوس نقوی کے لیے جوائن کی تھی؟ اپنا وژن اور حوصلہ وسیع کیجئے ورنہ عمر بھر ایسے بھٹکتے ہی رہیں گے اور اعتماد کھو دیں گے ہمیشہ کے لیے۔ ایک اور صارف ماریہ جبیں نے کہا کہ آپ ڈائریکٹر عمران خان سے بات کریں ایسے میڈیا میں بات کرنے سے پارٹی کو بھی نقصان ہو گا اور شاید آپ کو بھی۔ ایک اور صارف احمد رضا نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر آپ صرف ٹکٹ کے لیے آئے تھے تو آپ کی مہربانی آپ جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ گالیاں دینے والے انصافینز کو بتانا چاہتا ہوں اپنی حدود میں رہیں، معاملہ صرف ٹکٹ کا نہیں میرے شہر کراچی کی سیاسی سوجھ بوجھ کا ہے، مجھے ٹکٹ کی کوئی خواہش نہیں، چیئرمین کا استدلال تھا کہ میں انتخاب لڑوں اسی لیے میں نے حوالہ دیا لیکن فردوس نقوی نے جو کچھ کہا مجھے اس سے اختلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…