جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

فاٹا عوام کی رائے کو نظر انداز کرکے ان پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا تاریخی جبر ہے،مولانا فضل الرحمان کاقبائل گرینڈ جرگہ کے عمائدین سے خطاب ،بڑا اعلان کردیا

datetime 2  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قوم سے حقائق چھپائے جارہے ہیں، فاٹا عوام کی رائے کو نظر انداز کرکے ان پر غیر ملکی ایجنڈا مسلط کرنا تاریخ جبر ہے، قبائل عوام کے ہر فیصلے پر ان کے ساتھ ہیں ، قبائلی عوام اور صحافیوں پر تشدد حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قبائل گرینڈ جرگہ کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کیا،

انہوں نے کہا کہ 2012 سے قبائل عوام کے حقوق کی جنگ لڑرہا ہوں تمام سیاسی ومذہبی قیادت قبائل عوام اور جرگہ سے کئے گئے وعدوں سے منحرف ہو گئی اکیلا قبائل کی رائے کے احترام اور ان پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد کررہا ہوں، انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اور عبدالقادر بلوچ لکھئی ہوئی تحریر میں قبائل عوام سے رائے لینے کے معاہدے سے انحراف کررہے ہیں، جبکہ سیفران وزیر نے ٹی وی چینل میں جمعیت علماء اسلام کے موقف کی تائید کی تھی، انھوں نے کہا کہ جو لوگ اسمبلیوں پر لعنت بھجتے تھے وہ بھی اجلاس میں کثیر تعداد میں شریک ہوئے صوبائی اسمبلی کے آخری روز لوگوں کو لاکر قرار داد منظور کرائی گئی انھوں نے کہا کہ ہم فوج اور اداروں کے احترام کیلئے قبائل عوام کے مفاد کو مدنظر رکھ کر حکومت کو تجاویز دی لیکن ہماری تجاویز کو تحریری طور پر ماننے کے بعد اس سے انحرا ف کیا گیا، انھوں نے کہا کہ قبائل پر 150سال سے فیصلے مسلط کئے گئے اور آج بھی زبردستی فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں،انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان نے اسمبلی اجلاس میں شریک نہ ہو کر ہمارے موقف کی تائید کی اور حکومتی فیصلے کو مستر کردیا ہے، انھوں نے کہا کہ قبائل عمائدین ، علماء کرام اور مشران مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالہ سے اعلان کرینگے جمعیت علماء اسلام ان کے شانہ بشانہ ہو نگے، دریں اثناء قبائل جرگہ نے عیدالفطر کے بعد پشاور میں گرینڈ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے،

جسکی تاریخوں کا اعلان جلد کردیا جائیگا، اجلاس (جرگہ) میں قبائل عوام پر پولیس تشدد اور حکومت کی طرف سے ظلم و بربریت کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ عوام اور صحافیوں پر تشدد کرکے سابق حکومت نے ایک جبر اور ظلم کی داستان رقم کی، اس موقع پر قبائلی عمائدین ،سیاسی وسماجی شخصیات تمام ایجنسیوں سے آئے ہوئے جرگہ ممبران کے علاوہ مولانا گل نصیب خان، مولانا شجا ع الملک، عبدالجلیل جان، مفتی عبدالشکور، مفتی محمد اعجاز شنواری بھی موجود تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…