ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کراچی میں پھوٹ پڑگئی،کارکنوں کی ’’انصاف ہاؤس‘‘ میں توڑ پھوڑ، وہ کام ہوگیا جس کا کسی نے سوچا تک نہ ہوگا، شدید شرمندگی کا سامنا

datetime 2  جون‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل کارکنان نے ٹکٹ نہ ملنے پر انصاف ہاؤس کے شیشے توڑ دیئے، گو شمیم گو کے اور پارلیمانی بورڈ نامنظور کے نعرے بھی لگائے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع پاکستان تحریک انصاف کے دفتر انصاف ہاؤس میں مشتعل کارکنان نے حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی اور انصاف ہاؤس کے شیشے بھی توڑ دیئے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق انصاف میں پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری تھا اور آئندہ الیکشن کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیا جارہا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے والے مشتعل کارکنان کی جانب سے نامنظور نامنظور پارلیمانی بورڈ نامنظور اور گو شمیم گو کے نعرے بھی لگائے اور انصاف ہاؤس کے اندر وال چاکنگ بھی کی گئی ہے۔ مشتعل کارکنان نے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیئے اور دیواروں پر اسپرے سے نامنظور کے نعرے تحریر کردیئے، کارکنان نے عارف علی، فردوس نقوی اور دیگر پارٹی قیادت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پارلیمانی بورڈ کو جعلی قرار دیا اور ان نیا پارلیمانی بورڈ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔کارکنان کی ہنگامہ آرائی کے دوران پارٹی قیادت ایک طرح سے کمرے میں محصور ہوکر رہ گئی ، مشتعل کارکنان کو ہنگامہ آرائی سے روکنے کے لیے کوئی رہنما یا مقامی عہدیدار بیچ میں نہیں آئے اور کارکنانہ آزادنہ طور پر ڈنڈے اٹھائے گھومتے رہے۔پی ٹی آئی ذرائع نے بتایاکہ ناراض کارکنان نے انصاف ہاؤس میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماں ڈاکٹر عارف علوی اور فردوس شمیم نقوی کو گھیر لیا اور دھکے بھی دیئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران اسماعیل نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنان میں ٹکٹوں کی تقسیم پر جھگڑا ہوا ہے، جس کے بعد مشتعل کھلاڑیوں کی پارلیمانی بورڈ کے خلاف وال چاکنگ بھی کی ہے۔

عمران اسماعیل نے بتایاکہ کارکنان کی جانب سے کسی کو ٹکٹ نہ ملنے پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے، غصے کی وجہ سے اپنے ہی کارکنان ایسا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری تھا، جس میں عارف علوی، فردوس شمیم نقوی، علی زیدی اور میں موجود تھا، ٹکٹ نہ ملنے پر کارکنان نے انصاف ہاؤس اور قیادت پر غصہ اتارا ہے۔عمران اسماعیل نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ لینے والوں کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے، ہر شخص چاہتا ہے اسے ٹکٹ ملے، ہر کسی کو ٹکٹ نہیں دے سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…