ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کا پنجاب کے بعد سندھ میں بھی جنازہ نکل گیا، ٹکٹوں کی تقسیم پر بغاوت پھوٹ پڑی،اہم رہنمائوں کے باغی گروپس سامنے آگئے

datetime 1  جون‬‮  2018 |

کراچی ( این این آئی ) سندھ میں ٹکٹوں کی تقسیم پر جیالے ناراض ہو گئے ۔ کراچی تا کشمور پیپلز پارٹی میں باغی گروپس سامنے آنے لگے ۔ مخدوم جمیل الزمان ، ملک اسد سکندر ، علی گوہر مہر اور نادر مگسی سمیت متعدد رہنماؤں نے اپنے علیحدہ گروپس بنا لیے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے آئندہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم درد سر بن گئی ۔ جس کو مرضی کے

مطابق ٹکٹ نہ ملا ، وہ ناراض ہو گیا ۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سروری جماعت کے روحانی پیشوا مخدوم جمیل الزمان نے ٹکٹوں کے اجراء پر اپنی ناراضگی کا اظہار پارلیمانی بورڈ کے سامنے نہ آکر کیا ۔ ملک اسد سکندر جامشورو میں اپنا گروپ لانے پر بضد ہیں جبکہ گھوٹکی کے سردار علی گوہر مہر پیپلز پارٹی سے راہیں جدا کر چکے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے گڑ بدین میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کما ل چاند ، علی نواز چانڈیو اور محمد بخش عرف پپو شاہ ٹکٹ کی تقسیم پر نالاں ہیں تو قمبر شہداد کوٹ میں نادر مگسی بھی پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت سے سخت ناراض ہیں ۔ میرپورخاص سے ممبر صوبائی اسمبلی علی نواز شاہ نے اپنا گروپ بنا لیا ۔ سانگھڑ میں جام مدد علی کو ٹکٹ دینے پر اصغر جونیجو ناراض ہیں ۔ شکار پور میں امتیاز شیخ کو ٹکٹ دینے کے امکان پر پرانے جیالوں نے احتجاج کا فیصلہ کیا ہے ۔ دادو میں بریگیڈیئر طارق لاکھیر کی انٹری نے عمران ظفر لغاری اور فیاض بٹ کو پریشان کر دیا ہے ۔ حیدر آباد میں پیپلز پارٹی چار حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ جام خان شورو ، مولا بخش چانڈیو اور علی نواز شاہ رضوی گروپس میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔ نواب شاہ میں ڈاہری گروپ تشکیل دینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ نوشہروفیروز میں ضیاء الحسن لنجار کو ٹکٹ دینے کے امکان پر پارٹی کی مقامی قیادت نے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تھرپارکر میں مہیش کمار ملہانی ، کھٹو مل جیون اور نو ر محمد شاہ جیلانی ٹکٹ نہ ملنے پر گھر بیٹھ گئے ہیں ۔ لیاری میں نبیل گبول کی مخالفت شروع ہو گئی ہے ۔ سابق ممبر قومی اسمبلی شاہجہان بلوچ نے ناراض ہو کر اپنا گروپ بنا لیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…