ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

آصف علی زرداری نے انتخابی نشان تلوار کیلئے درخواست کیوں جمع کروائی تھی ؟ پیپلز پارٹی تیر پریا پھر تلوار پر الیکشن لڑے گی ؟ بلاول بھٹو نے اپنا فیصلہ سنا دی

datetime 1  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز نے پیپلز پارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کرنے کیخلاف احتجاجی مراسلہ الیکشن کمیشن کو ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی جماعت کو تیر اور تلوار کا انتخابی نشان الاٹ کرنا جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کے صدر ڈاکٹر صفدر علی عباسی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کے

نام لکھے گئے احتجاجی مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے تلوار کے نشان کیلئے درخواست دینے کا مقصد صرف اس انتخابی نشان کو بلاک کرنا ہے کیونکہ ان کی جماعت کے پاس پہلے ہی تیر کا نشان موجود ہے جبکہ کئی کیسوں میں پہلے آیئے اور پہلے پایئے کی بنیاد پر درخواستوں پر انتخابی نشانات کے فیصلے کئے گئے ہیں تاہم اس کیس میں آپ نے اس اصول کو مدنظر نہیں رکھا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ یکطرفہ اور اس کی ساکھ پر اس سے سنجیدہ سوالیہ نشان اٹھے گا۔ جب الیکشن کمیشن کی جانب سے تلوار کا نشان پیپلز پارٹی کو الاٹ کیا گیا تو اسی وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے یہ اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی اپنے انتخابی نشان تیر پر انتخاب میں حصہ لے گی جو میرے اعتراض کا اعتراف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…