جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی، ملک پر قرض کا بوجھ بڑھانے میں حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں نے حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،اندرونی قرضے کس قدر بڑھ گئے؟ رقم اتنی زیادہ کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک پر قرض کا بوجھ بڑھانے میں حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں نے حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا، لیکن ان اداروں کے اندرونی قرضے 30 فیصد بڑھ گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک سال کے دوران سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں نے مجموعی طور پر 262 ارب 80 کروڑ روپے کے نئے قرضے لیے،

جس کے باعث ان کے قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 15 کھرب 13 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،اس دوران ان اداروں کے اندرونی قرضے 231 ارب روپے کے اضافے سے 9 کھرب 96 ارب 40 کروڑ روپے اور بیرونی قرضے 30 ارب روپے کے اضافے سے 3 کھرب 17 ارب روپے ہو گئے۔سب سے زیادہ مقروض پی آئی اے ہے، جس کا اندرونی قرضہ سال کے دوران 39 ارب روپے کے اضافے سے 148 ارب روپے سے تجاوز کر گیا،واپڈا نے 12 ماہ میں 38 ارب روپے مزید قرض لیا ،مارچ کے اختتام پر واپڈا کے قرضوں کا حجم 124 ارب روپے اور پاکستان اسٹیل کے قرضوں کا حجم 43 ارب 20 کروڑ روپے ہے جبکہ دوسرے سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں کے مجموعی قرضے سال کے دوران 154 ارب روپے کے اضافے سے 6 کھرب 77 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ ملک پر قرض کا بوجھ بڑھانے میں حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں نے حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا،ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 17 فیصد اضافہ ہوا، لیکن ان اداروں کے اندرونی قرضے 30 فیصد بڑھ گئے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک سال کے دوران سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں نے مجموعی طور پر 262 ارب 80 کروڑ روپے کے نئے قرضے لیے،جس کے باعث ان کے قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 15 کھرب 13 ارب روپے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…